A mound of thoughts
فَاخِتَہ شاخُوں مِیں ڈَرِی بَیٹھی ہے صِیّاد کِی تِیز نَظَر اُس پے رَہتی ہے خَوف کا سَایَہ ہَوَا مِیں لَہراتا ہے پھُول بھی کانپ کے جُھک جاتا ہے سانس لَینا بھی گُنَاہ لَگتا ہے وَقت ہَر زَخم نَیا دِکھلاتا ہے…