خامشی گفتگو سے ڈرتی ہے
عاشقی آبرو سے ڈرتی ہے
موت کو دلبری نہیں آتی
زندگی آرزو سے ڈرتی ہے
رستہ کوئی شہرِ ذات سے آگے بھی ہے
منظر کوئی کائنات سے آگے بھی ہے
تشنہ ہے نگار خانۂ رنگِ حیات
دریا کوئی فرات سے آگے بھی ہے
افکار کو روشنی میں ضم کرتا ہے
آفاق کی تقدیر رقم کرتا ہے
ہوتا ہے طلوع جب قلم کا سورج
خورشیدِ کُہَن کا سر قلم کرتا ہے
کوئی طاقت گُمان کے پَر میں نہیں
فطرت کا نظام قوّتِ زر میں نہیں
جس قوم کی تعلیم ہے دولت میں اسیر
منزل اُس قوم کے مقدّر میں نہیں
معنی کا نُور لفظ کے سینے میں دیکھ
سورج کی کرن اَبر کے آئینے میں دیکھ
ہے رنگِ بدن قوسِ قُزَح کا گُل دَان
فُوّارۂ جاں قَممَقوں کے زینے میں دیکھ
——————-
![]()