Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

انسان کا فخر اور انجام R… English

انسان کا فخر اور انجام

انسان،
ساری عمر اپنے ہونے پر فخر کرتا ہے،
انا کے محل بناتا ہے،
نام کے مینار کھڑے کرتا ہے،
وجود کی عظمت پر ناز کرتا ہے۔

مگر لمحۂ آخر آتے ہی—
وہی وجود
لوگوں کو بوجھ لگنے لگتا ہے،
وہ اسے مٹی میں دفن کرتے ہیں،
آگ میں جلا دیتے ہیں،
دریا کے سپرد کر دیتے ہیں،
یا پرندوں کو کھلا دیتے ہیں۔

یہی انسان،
جس کی مسکراہٹوں پر محبتیں قربان تھیں،
اب نظروں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے،
ایسا بیزار کہ اسے
دور، اوجھل اور غائب کر دیا جاتا ہے۔

اے انسان!
سمجھ لے—
تیرا اصل فخر
تیرا جسم نہیں،
تیری سانسیں نہیں،
تیرا نام نہیں،
بلکہ وہ نیکی ہے
جو تیری رخصتی کے بعد بھی
زمین پر خوشبو بن کر باقی رہتی ہے۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *