Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poetry

ایک نیا آغاز (خود کلامی)

ایک نیا آغاز کسی کے آنے کا مت انتظار کرو کہ وہ تمہیں بچائے گا اُٹھو… چاہے آہستہ آہستہ ہی سہی اپنی بکھری ہوئی دنیا سمیٹو چاہے خاموشی میں ہی سہی خود سے کہو: “میں قابل ہوں میں نیا آغاز…

Loading

پنڈ دی مَسِیت

پنڈ دی مَسِیت اَسِّی نِکّے جَیہے ہُوندِی٘اں پَن٘ڈ دِی پُرانِی مَسِیت وَل اَللّٰہ مِی٘اں دا گھر سَمَجھ خُوش ہو کے جان٘دے ساں او ہے شاہ رَگ تُوں نِی٘ڑے پَر گھر اوہدے جا جا کے اَپ٘نِی بھاجِی لاہن٘دے ساں نَعتاں، سَبَق،…

Loading

اک مشغلہ

اک مشغلہ کب سے یہ مشغلہ ہے میرا… روز ایک نیا کاغذ اُٹھاتا ہوں، جس پر ایک کہانی لکھتا ہوں نئی، پرانی، کچھ سنی، کچھ ان سنی… کبھی وہ ہنستی ہے میرے ساتھ، اور کبھی جیسے خاموش ہو کر میری…

Loading

کھو نَہیں سَکتا

مَیری دَھڑکَن مِیں تُو بَس رَہا ہے کَہیں تُجھ سے بَڑھ کَر تُجھے چاہ نَہیں سَکتا —– مَیں تُجھے چھوڑ کَر جا نَہیں سَکتا وَقْت کو اِس طَرَح کھو نَہیں سَکتا مَیں تِری چَشْم کے خَواب بَنتا رَہوں مَیں تِری…

Loading

غزل

کر لی تَرَقِّی بَہُت، بَدلَا ہُوَا گَھر رَہ گیا ہے پُوچھنَا تھا، کیا دالآن کا گھَنا شَجَر رَہ گیا ہے؟   چَمکے ہیں ہَر سَمت اَب شُوخ رَوشَنِی کے چَراغ یاد کا لَیکِن فَقَط اِک دُھںدلَا اَثَر رَہ گیا ہے…

Loading

غزل

 دمِ رخصت بوجھل دل سے میں بھی چلتا رہا اس رات کوئی دہلیز سے لگ کے روتا رہا اداس آنکھوں میں خواب ٹوٹ کے بکھر گئے چراغ شوق ہوا کے دھکوں سے جھپکتا رہا وصال کے دن بھی ہجر کی…

Loading

غزل

ہوا کا زور تھا طائر یہ پھڑ پھڑاتا رہا فنا بھی ہوتا رہا راہ بھی دکھاتا رہا فضا میں اُڑتے ہوئے آںکھ میں تھا ایک خَاب نظر کا نُور بھی بُجھ کر تُجھے جگاتا رہا گُزر گئے ہیں کئی کارواں…

Loading

غزل

پَردیس میں رُوزی، سَر چُھپانے کو ٹھِکانے ڈھوںڈتا رہا زَہریلا ناگ دیس میں، میرے گھر میں خَزانِے ڈھوںڈتا رہا مَیں اُس کی دَہلیز پر اَپنا آخِری خَط چھوڑ آیا تھا وُہ شَہر کو بَتانے کے لِیے فَسانے ڈھوںڈتا رہا جِن…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

کِیا ہوتا ہے مَیں ہوں کہ تُم ہواپنے ہیں سب ہی، خُوشی ہو یا غَم ہو یادوں کی خُوشبُو ہے سانسوں کے ساتھخوابوں کے موسِم میں چاہَت کا نَم ہو دُنیا کے رَستے بَدَلتے رہیں گےمگر دِل کی رَہ میں…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

أشک آنکھوں سے خواب دُھندلا دیتے ہیں تیری یادوں کے چراغوں کو جب ہوا دیتے ہیں تُم جو بِچھڑے تو کوئی رنگ نہ باقی رہا ہم تو ہر منظر کو اب سادہ سا بنا دیتے ہیں بَند آنکھوں میں تِری…

Loading