Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem

Poem

فقیر و درویش کون؟ Recorded

فقیر اور درویش — دونوں کے لفظ صوفیانہ روایت سے آتے ہیں، مگر ان کے مقام، کیفیت اور اندازِ زندگی میں باریک مگر اہم فرق ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ فرق کچھ یوں سمجھیں:  فقیر کون؟ فقیر کا مقام: طلب…

Loading

گُزارا نہیں

اُس قَوم کا ہوتا بُلَند سِتارہ نہیں جِس کو اپنی خُدی کا کوئی شُمَارہ نہیں اِس لِئے بھی جاہِل رَکھا گیا ہے سَب کو جاگتے ذَہنوں پہ رہتا پِھر اِجارَہ نہیں دِل کی دُنیا بھی ڈوب کر دیکھی ہے، اِفری…

Loading

ایک نیا جہان تمہارا منتظر – نظم

ہر دل کے اندرایک ایسی دنیا بستی ہے جو حقیقت سے بھی بڑی ہے۔جہاں ایک ناول ہےایک کہانی ہےایک مسکراہٹ ہےایک آنسو ہےایک خبر ہےاور کئی راز چھپے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ دنیانہ کسی کی آنکھ دیکھ سکتی ہے،نہ کوئی زبان…

Loading

بات کو مختصر کرو – نظم

آج کا قاری کہتا ہےبات کو مختصر کرو وہ کیا جانےکہ ساٹھ برس کی دھوپ چھاؤںساٹھ برس کی ہنسی اور آنسوساٹھ برس کی ہزیمت اور فتحکیسے سمٹ سکتی ہےچند لفظوں کی تنگ قید میں؟ زندگیایک لامتناہی کہانی ہےجہاں ہر دنایک…

Loading

فاخِتہ

فَاخِتَہ شاخُوں مِیں ڈَرِی بَیٹھی ہے صِیّاد کِی تِیز نَظَر اُس پے رَہتی ہے خَوف کا سَایَہ ہَوَا مِیں لَہراتا ہے پھُول بھی کانپ کے جُھک جاتا ہے سانس لَینا بھی گُنَاہ لَگتا ہے وَقت ہَر زَخم نَیا دِکھلاتا ہے…

Loading

خیالات اور حقیقت کی جستجو

ہم نے اپنے دلوں کو خیالات کے نرم دریا میں ڈبو لی جہاں ہر لہر میں امید کی روشنی تھی مگر حقیقت کی تلخی نے ہمیں تھکا دیا ہم نے اپنے اندر کی آواز کو سنا لیکن پھر بھی ہم…

Loading

سیڑھی اور سکون

سیڑھی اور سکون مدتوں سے یہ ٹوٹی پھوٹی سیڑھی میرے گھر میں سنبھال رکھی ہے جب کبھی بھی دل تھک جائے اور در و دیوار سے وحشت آنے لگے تب میں یہ سیڑھی لگاتا ہوں اور چھت کی طرف بڑھ…

Loading

Poem نظم

قرض

قرض — صرف رقم نہیں ہوتا قرض ہمیشہ روپیہ پیسہ نہیں ہوتا… کبھی یہ ایک نرم لہجہ ہوتا ہے جو دل کی ویرانی میں زندگی کی لَو جلا دیتا ہے۔ کبھی یہ ایک تسلی ہوتا ہے جو آنکھوں سے بہتے…

Loading

Poem نظم

المیہ

چلتے ہیں ہم، زندگی کی راہوں میں بےخبر نہ منزل کا پتہ ہے، نہ خود سے کوئی خبر بھاگتے ہیں ان چیزوں سے جو پہچانی نہیں ڈر لگتا ہے، مگر وجہ کچھ جانی نہیں کرتے ہیں سب کچھ جو فرض…

Loading

Poem نظم

پَردیسیوں کا دُکھ

تم نے پردیسیوں کے چہروں کی مسکراہٹیں تو دیکھی ہیں مگر اُن کی ادھوری نیندیں، بے خواب آنکھیں نہیں دیکھیں دھوپ میں جلتے خواب، پسینے سے شرابور ماتھے ان کے قدموں کے چھالے، بیابان راتیں نہیں دیکھیں عجیب ساحلوں پر…

Loading