فقیر اور درویش — دونوں کے لفظ صوفیانہ روایت سے آتے ہیں، مگر ان کے مقام، کیفیت اور اندازِ زندگی میں باریک مگر اہم فرق ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ فرق کچھ یوں سمجھیں:
فقیر کون؟
فقیر کا مقام: طلب و احتیاج
-
فقیر وہ ہے جو اللہ کا محتاج بن کر جیتا ہے۔
-
وہ دنیاوی خواہشات سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کے اندر کچھ طلب باقی رہتی ہے—طلبِ حق، طلبِ قرب، طلبِ معرفت۔
-
فقیر کے دل میں ایک عاجزی اور جھکاؤ ہوتا ہے:
“میں کچھ نہیں، سب کچھ اللہ ہے”۔
فقیر کی کیفیت
-
اس کی آنکھوں میں تلاش ہوتی ہے۔
-
اس کا دل سفر میں ہوتا ہے اور وہ روحانی راستے کا سالک ہوتا ہے۔
درویش کون؟
درویش کا مقام: فنا و بے نیازی
-
درویش فقیر سے آگے کا مقام ہے۔
-
درویش وہ ہے جو طلب سے بھی آزاد ہو جاتا ہے۔
-
اس کی اصل صفت بے نیازی ہے: نہ دنیا کی چاہ، نہ تعریف کی خواہش، نہ لوگ کیا کہیں گے۔
درویش کی کیفیت
-
وہ “ہو چکا” ہوتا ہے — یعنی سفر مکمل کرنے والا مسافر۔
-
اس کے دل میں سکون، اتحاد اور اللہ سے قرب کی گہری طمانیت ہوتی ہے۔
خلاصہ :فرق ایک لائن میں
فقیر طالب ہوتا ہے، درویش واصل۔
فقیر کا دل تلاش میں، درویش کا دل قرار میں۔
فقیر چاہت میں، درویش بے نیازی میں۔
فقیر سے درویش تک
دلِ فقیر میں اک طلب کی روشنی رہی
قدم قدم پہ جستجو کی راہ جی رہی
ہوا میں عاجزی کا رنگ گھلتا ہی گیا
“میں کچھ نہیں” کی ایک صدا دل سے اٹھتی رہی
مسافرِ راہِ حق تھا، جستجو میں مبتلا
ہر ایک موڑ پہ نئی منزل کھڑی رہی
پھر ایک دن سکوت نے اس دل کو چھو لیا
نفی کی رات سے اثبات کی صبح آ گئی
وہ درویش ہو گیا، طلب سے بھی ہٹا دیا
جہاں کی چاہ، جہاں کی بات سب مٹا دی گئی
نہ نام کی ہوس رہی، نہ حال کا غرور تھا
وہ بے نیاز ہو کے بس خدا سے جا ملی
فقیر تھا تو راہ میں، سفر ہی اس کی ذات تھا
درویش بن کے وصل کی راحت اسے ملی
یہ فرق ہے دونوں میں، جان لے اے سالکِ رہ
فقیر چاہتوں میں تھا، درویش بے طلب کھڑا—خودی کا ولی۔
———
محمد افراہیم بٹ۔
Recorded .. Urdu and English.
![]()


