Kheyal Darya

A mound of thoughts

غزلیات

غزلیات

تمام عُمر کی ہِجرَتوں سے کیا مِلا Recorded

تمام عُمر کی ہِجرَتوں سے کیا مِلا وَطَن سے نِکالا نَفرَتوں سے کیا مِلا نہ خاک خُوشبُو دی، نہ اَمْن کا سَہارَاغَریب دیس کی غُربَتوں سے کیا مِلا جہاں پہ خوابوں کی رَوشنی بُوئی تھیوہیں پہ راتوں کی ظُلمَتوں سے…

Loading

غزلیات

Ghazal

درد ہی اصل میں سرمایۂ جاں ٹھہرا ہےدِل کو روتا ہے وَہی، دِل کو سنبھالتا ہے وَہی درد کو باندھ لیا ہے دِلِ بےکَل کے ساتھچھوڑ دُوں، پھر یہ وَبالِ غمِ جاں ہو جائے غم کو کہتا ہوں میں اَفسانۂ…

Loading

غزلیات

بے سُکون رہتا ہے

سلاماً على قلبٍ يتألم قبل المنام، ويبكي بكاء العالم ولم يشعر به أحد سَلام اُس دِل پِہ جو ہر شَب بے سُکون رہتا ہے خَاب آتے ہیں مگر آنکھوں میں خُوں رہتا ہے وُہ جو سَب ہَسْتے ہُوئے چہْروں کو…

Loading

غزلیات

خواب سُہانا یاد ہے

چَلے جَب پَردیس ہَم، دِل کو مَنانا یاد ہےماں کے آنچَل میں چُھپا خواب سُہانا یاد ہے ریت پر چَلتے ہُوئے سائے بھی رُوٹھے تھے بَہتدھوپ میں تَنہا کِسی پیڑ کا آنا یاد ہے خواب بُنتی تھی کَبھی رات کی…

Loading

غزلیات

سَمَجھا نَہیں

مَستی میں تھا وہ سَچّائی سَمَجھا نَہیںمِرے لَہجے کی گَہرائی سَمَجھا نَہیں نابِینا تھا وہ دُنیا کی طَلَب میں اِتناکیا ہے دِل کی بَینائی سَمَجھا نَہیں مَر رَہے ہیں روٹی کو تَرَستے ہیں لوگاَمِیرِ وَطَن اَبھی نَوحَہءِ مَہنگائی سَمَجھا نَہیں…

Loading

غزلیات

سمجھا نہیں

مستی میں تھا وہ سچائی سمجھا نہیںمیرے لہجے کی گہرائی سمجھا نہیںنابینا تھا وہ دُنیا کی طلب میں اتناکیا ہے دل کی بینائی سمجھا نہیںمر رہے ہیں روٹی کو ترستےہیں لوگامیرِ وطن ابھی نوحۂ مہنگائی سمجھا نہیںبیچ دیا ہے وطن…

Loading

کھو نَہیں سَکتا

مَیری دَھڑکَن مِیں تُو بَس رَہا ہے کَہیں تُجھ سے بَڑھ کَر تُجھے چاہ نَہیں سَکتا —– مَیں تُجھے چھوڑ کَر جا نَہیں سَکتا وَقْت کو اِس طَرَح کھو نَہیں سَکتا مَیں تِری چَشْم کے خَواب بَنتا رَہوں مَیں تِری…

Loading

غزل

کر لی تَرَقِّی بَہُت، بَدلَا ہُوَا گَھر رَہ گیا ہے پُوچھنَا تھا، کیا دالآن کا گھَنا شَجَر رَہ گیا ہے؟   چَمکے ہیں ہَر سَمت اَب شُوخ رَوشَنِی کے چَراغ یاد کا لَیکِن فَقَط اِک دُھںدلَا اَثَر رَہ گیا ہے…

Loading

غزل

 دمِ رخصت بوجھل دل سے میں بھی چلتا رہا اس رات کوئی دہلیز سے لگ کے روتا رہا اداس آنکھوں میں خواب ٹوٹ کے بکھر گئے چراغ شوق ہوا کے دھکوں سے جھپکتا رہا وصال کے دن بھی ہجر کی…

Loading

غزل

ہوا کا زور تھا طائر یہ پھڑ پھڑاتا رہا فنا بھی ہوتا رہا راہ بھی دکھاتا رہا فضا میں اُڑتے ہوئے آںکھ میں تھا ایک خَاب نظر کا نُور بھی بُجھ کر تُجھے جگاتا رہا گُزر گئے ہیں کئی کارواں…

Loading