Kheyal Darya

A mound of thoughts

poem

Poem

گرگِ آتشی

چلو جوانو میں بوڑھا ہو گیا ہوں، آؤ، مل کر “گرگِ آتشی” کھیلتے ہیں۔ آ جاؤ، بناؤ دائرہ سردی بڑھ رہی ہے اور دور تک، تمہارے لیے کوئی شکار بھی نہیں۔ چلو، میں تیار ہوں کھیلنے کے لیے۔ دیکھو، میری…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ

اور معاشرتی تبدیلی(انقلاب آنے کی وجوہات) قسط 9 /43 پچھلے کچھ دنوں سے اس موضوع پر لٹریچر کا مسلسل مطالعہ کر رہا ہوں جس میں دُنیا بھر سے بشمول مسلمان و مغربی تقریبا پچھتر فلاسفرز اور اہل دانش کو سامنے…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ اور مینڈھے لیلے لیڈرز(حکمران)

قسط 47 (ایک ویڈیو میں دو مینڈھے ٹکراتے دیکھ بیان کر دیا ہے، یاد رکھیں: “دُنیا میں ہر واقعہ ہماری راہنمائی کے لئے رونما ہوتا ہے۔ “افری) زندگی، کائنات کا سب سے پیچیدہ مگر بامعنی مظہر ہے، جو مسلسل ارتقاء…

Loading

Poetry

میری کہانی

ماں نے مجھے بولنا سکھایا تھا پھر چلنا، اور زمین پر پہلا حرف لکھنا۔ میں نے وہ حرف اٹھایا، لفظوں میں پرویا، اور بولتا گیا۔ پردیس کی راہوں میں، میں رکا نہیں، دوڑتا رہا۔ تختیاں لکھتا رہا، اور جب پڑھنا…

Loading

Poem

جیون لِپی

کہانی پہلوں رچی ہوئی سی ہر شے ایویں گُندھی جیویں وقت نے صدیاں پہلوں اس دا تانا بانا بُن رکھیا ہووے۔ رنگ پہلوں ای کینوس تے وسے پئے سن، میں تاں اک جھات مار کے منظر ویکھ لیا۔ میری آکھ…

Loading

Poem

Who?

Who? Yesterday when I called her A cold, submerged voice came Hello, who? Hello, who? Then silence In surprise, I asked her Is my name and number not saved? No, it’s not like that at all, she said How did…

سچی کہانی

محبوب آپ کے قدموں میں

پاکستان جاتا تو مزارات علامہاقبال و سید علی ہجویری رحہ پہ پونے دو سو کلو میٹر کا سفر کر کے فاتحہ کے لئے حاضر ہوتا۔ایک دفعہ خیال آیا کیوں نہ لوگوں کے  رویوں کا تجربہ کیا جاۓ۔میں نے داتا صاحب…

Loading

کہانی

دو اجنبی ایک آجنبی شہر میں

چند سال ہوۓ ایک کمپنی کےلائسنس کی تجدید کرانا تھی تین دن کی چھٹی لے کر بیگ گلے میں ڈالا اور مطار اسلام آباد سے ٹیکسی پکڑ کرسیدھا امیگریشن بیورو کے سامنے سات بجے فٹ پاتھ پہ لگی ناشتے کی…

Loading

نیکی

نیکیانسانی دل و دماغ بھی اللہ نے بڑا زبردست بنایا ہیں۔ جب کوئی بات دل میں آ جاۓ تو ذہن میں جا کر خیال کی صورت چپک جاتی ہے پھر جب اس کا کیمیکل عمل شروع ہوتا ہے تو اس…

Loading

The Burden of Blame

Once we met, but never again shall I meet you, In your city, dwell the open-hearted few. I bear the blame for all that’s accused, Ready for debate, the open-hearted crew. I search for news, a path to pursue, Yet…

Loading