خودی ایک آگ ہے، جسے بجھایا نہیں جا سکتا۔
یہ وہ روشنی ہے، جو کبھی ماند نہیں پڑتی۔
یہ ایک خواب ہے، جسے تعبیر کی قید میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
یہ وہ جام ہے، جو تشنگی تو دیتا ہے، مگر سیراب نہیں کرتا۔
یہ ایک راز ہے، جسے سمجھنے کی کوشش لاحاصل ہے۔
یہ ایک ساز ہے، جس کی ہر تان خود اپنی گونج میں گم رہتی ہے۔
یہ وہ صبح ہے، جس پر کبھی شام نہیں آتی۔
یہ ایک آئینہ ہے، جس میں وقت کی دھول نہیں جمتی۔
یہ شور ہے، جو کبھی تھمتا نہیں،
یہ درد ہے، جو کبھی گھٹتا نہیں،
یہ وہ شعلہ ہے، جو بجھنے سے انکاری ہے،
یہ وہ نور ہے، جو ہوا کی حدوں سے بھی بلند ہے۔
خودی کو بلند کرو، کہ یہی زندگی کا جوہر ہے،
یہی وہ روشنی ہے، جو ازل سے ابد تک سفر میں ہے۔
(افری)
![]()