الحمدللہ علی کل حال
شکر اور صبر : زندگی کی اصل حقیقت
زندگی خوشیوں اور غموں، آسانیوں اور مشکلات، صحت اور بیماریوں کا ایک امتزاج ہے۔ ہر انسان اپنی حالت پر کبھی مسکراتا ہے اور کبھی آنسو بہاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خوشی میں شکر اور غم میں صبر ہی وہ دو پروانے ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتے ہیں۔
شکر کی حقیقت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ”
اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کی تو میرا عذاب بھی سخت ہے۔
(سورۃ ابراہیم: 7)
انسان اگر دن رات بھی سجدے میں پڑا شکر ادا کرے تو بھی اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ ایک مفکر نے کہا “ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں، اگر صرف اسی پر قیمت مقرر ہو جاتی تو دنیا کی بڑی دولت بھی ناکافی ہوتی۔”
صبر کا مقام سمجھنا بھی ضروری ہے کیونکہ صبر محض برداشت کا نام نہیں، بلکہ دل کو مطمئن رکھنے کا نام ہے جیسا قرآن میں ارشاد ہے:
“إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ”
بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
(سورۃ الزمر: 10)
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا “مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کے ہر حال میں بھلائی ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بھلائی ہے، اور اگر اسے دکھ پہنچے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بھلائی ہے۔”
(صحیح مسلم)
شکر اور صبر کی مثال حالیہ دور میں ایک خبر نظر سے گزری کہ اردن کی ایک نوجوان اور ماشااللہ خوبصورت لڑکی “اسراء” جو معدے کے فالج میں مبتلا ہے، اپنی ساری زندگی کھانے پینے کے لیے ایک ٹیوب پر گزار رہی ہے۔ وہ کہتی ہے:
“جب مجھے سب سے عام چیزوں کی خواہش ہوتی ہے، جیسے مچھلی، تو میں صرف اسے سونگھ لیتی ہوں اور اسی خوشبو سے لطف اندوز ہو جاتی ہوں۔”
وہ مزید کہتی ہے: “کاش میں بھی تمہاری طرح غسل کر سکتی، تمہاری طرح سکون سے سو سکتی، بغیر درد اور بغیر دواؤں کے۔
اور پھر وہ کمال یقین کے ساتھ کہتی ہے:
“یہ وہ نصیب ہے جو اللہ نے میرے لیے لکھا ہے۔ میں ہمیشہ کہتی ہوں: بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔”
اس کے کلام سے پتہ چلتا ہے کہ صبر اور شکر دونوں کا ملاپ انسان کو روحانی طاقت عطا کرتا ہے۔
چلیں مل کر دعا کریں کہ رب اس بیٹی کو اور دوسری ایسی نامعلوم پاک رُوحوں کو مکمل شفا دے، ایسی شفا جس کے بعد کوئی بیماری باقی نہ رہے۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، قسمت کا حال کوئی نہیں جانتا۔ تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ شاید کل ہی اللہ ایک ایسا طبیب بھیج دے جو معجزہ کرے اور وہ صحتیاب ہو جائے۔ رب تو کریم ہے اور اس کی رحمت بے پایاں ہے۔ ہر احترام اور ہر قدردانی تیرے لیے۔
اللہ اسے اور ہمیں بھی ہمت دے، صبر دے، اور دنیا کی مشکلات میں استقامت عطا کرے، اور آخرت میں تُو جنت کے فائزین میں شامل ہوں، آمین۔
اس تحریر کے زریعے اپنے دل کی حالیہ سرجری اور زندگی کے تجربات، مطالعہ و مشاہدات سے یہی سبق ملتا ہے کہ
ہم میں سے اکثر لوگ معمولی سی مشکل پر شکوہ اور شکایت کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی نعمتوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک بزرگ نے کہا تھا
“اگر کسی دن تمہیں کوئی مصیبت نہ ملے تو سمجھو اللہ نے تمہاری بہت ساری خطاؤں کو ڈھانپ لیا ہے۔”
اس لیے ہمیں ہر حال میں کہنا چاہیے
“الحمدللہ علی کل حال”
یعنی ہر حالت میں شکر، ہر حالت میں صبر۔ یہی رویہ زندگی کو سکون، اور دل کو نور بخشتا ہے۔
سو الحمدللہ ہمیشہ اور ہر حال میں میں جاری رہنا چاہئے۔ قسم ہے اللہ کی! اگر ہم دن رات اس کا شکر ادا کرتے رہیں تو بھی اس کی نعمتوں کے ایک چھوٹے حصے کا بھی حق ادا نہ ہو۔ مگر ہم اپنی زندگیاں شکایتوں اور افسوس میں گزار دیتے ہیں۔
حسرت ہے اور افسوس! اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔”
<<<<<*******FB>>>>>
شکریہ۔۔۔ نوٹ:
(جو دوست اسے پڑھیں تو وہ اپنے کمنٹس سے بھی نوازیں۔ اگر ہم واقعی کچھ سیکھنے یا خیر کے لئے علم حاصل کرتے ہیں اور دوسروں تک بھی یہی پیغام پہنچاتے ہیں تو شکر کی رسید لازم ہو جاتی ہے۔
میاں محمد بخش رح کے بقول:
خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں مناسب کرنی
مٹھی کھیر پکا محمد ا کتیا اگے دھرنی
سلامت رہیں۔
دعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ-
![]()

