روشنی کا راستہ: ایک فکری جستجو
زندگی کے ہنگاموں میں ہم اکثر معیار سے زیادہ مقدار کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اپنی زندگی کی چیزوں کے معیار کا خیال رکھتا ہے، خاص طور پر اُن چیزوں کا جو اُس کے قریب ہوں، تو اس کی ذاتی دنیا قیمتی ہو جاتی ہے۔ یہ قیمتی دنیا نہ صرف اُس پر بلکہ اُس کے ماحول پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ انسان جب کھوکھلے خولوں سے نکل کر اصل معنی اور جڑوں پر توجہ دیتا ہے تو گویا وہ روشنی کے راستے پر چلنے لگتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا”
کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور ناکام ہوا جس نے اُسے دبا دیا۔
(الشمس: 9-10)
ہر انسان کی اپنی ایک سمت اور اپنی راہ ہوتی ہے۔ ہر زندگی اپنے ساتھ عطیات، تفصیلات اور اختلافات رکھتی ہے۔ کوئی زندگی دوسری زندگی سے یکساں نہیں اور نہ ہی کوئی انسان دوسرے انسان کی مکمل نقل ہوسکتا ہے۔ اسی لیے حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
“كلٌّ ميسَّر لما خُلق له”
ہر ایک کے لیے وہی آسان کیا گیا ہے جس کے لیے اُسے پیدا کیا گیا ہے۔
(صحیح البخاری)
اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد انسان کو موازنہ کرنے کی حاجت نہیں رہتی۔ وہ جان لیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ اپنی زندگی کا موازنہ کرنا نہ صرف بے فائدہ ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ جب یہ شعور پروان چڑھتا ہے تو آراء، تصورات اور رویے سب بدلنے لگتے ہیں۔ انسان میں توکل بڑھ جاتا ہے اور بے شمار بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے۔
ان سب کے ساتھ ایک اور بنیادی ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنے لیے وقت نکالے۔ دن کے کسی حصے میں ایسا لمحہ ہو جس میں وہ اپنی ذات کی طرف پلٹے، سکون پائے اور وہ کرے جو اُسے پسند ہے۔ معاشرے میں ناحق دوڑ، تعصب اور عناد و فساد کا سبب ہوتا ہے۔ اپنے لیے مراقبہ کرنا یہ کوئی عیاشی یا غیر ضروری چیز نہیں بلکہ زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جیسا کہ مشہور فلسفی سقراط نے کہا تھا:
“جو زندگی غور و فکر کے بغیر گزرے، وہ جینے کے قابل نہیں۔”
اسی طرح حضرت علیؓ کا قول ہے:
“راحةُ الجسدِ في قِلَّةِ الطعام، وراحةُ النفسِ في قِلَّةِ الآثام، وراحةُ القلبِ في قِلَّةِ الاهتمام.”
جسم کی راحت کم کھانے میں ہے، نفس کی راحت کم گناہوں میں ہے اور دل کی راحت کم فکروں میں ہے۔
مختصر خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی اس میں ہے کہ ہم اپنی ذات کو پہچانیں، اپنی سمت کو سمجھیں، دوسروں سے موازنہ ترک کریں اور اپنے اردگرد کے معیار کا خیال رکھیں۔ جب ہم اپنے اندر کی روشنی سے جڑ جاتے ہیں تو یہ روشنی دوسروں تک بھی پہنچتی ہے، اور یہی زندگی کے سفر کو با مقصد اور پر سکون بناتی ہے۔
اِفری
![]()

