فکر کے دروازے
جب فکر کے دروازے کھلیں
تو آپ کا قلم
خود بولنے لگے،
الفاظ کے رنگ بکھیرنے لگیں۔
شوقِّ فن اپنا ذائقہ پیدا کرے
ہر حرف میں خوشبو چھپ جائے
اور سطریں، جیسے خواب کی راہ میں
خود سے شروع ہونے لگیں۔
یہ تحریر نہ صرف آپ کی سوچ کی تصویر بنائے
بلکہ ہر قاری کے دل میں
ایک نیا منظر روشن کرے،
ایک نئی دنیا آباد کر دے۔
اِفری
![]()


