Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU نظم

فکر کے دروازے

فکر کے دروازے
جب فکر کے دروازے کھلیں
تو آپ کا قلم
خود بولنے لگے،
الفاظ کے رنگ بکھیرنے لگیں۔
شوقِّ فن اپنا ذائقہ پیدا کرے
ہر حرف میں خوشبو چھپ جائے
اور سطریں، جیسے خواب کی راہ میں
خود سے شروع ہونے لگیں۔
یہ تحریر نہ صرف آپ کی سوچ کی تصویر بنائے
بلکہ ہر قاری کے دل میں
ایک نیا منظر روشن کرے،

ایک نئی دنیا آباد کر دے۔

اِفری

 

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *