اگر تم خاموش ہو گئے
تو دن تمہیں روند ڈالیں گے،
وقت اپنی ایڑیوں تلے
تمہاری سانسیں کچل دے گا۔
اگر تم رک گئے
تو شکست تمہارا سایہ بن جائے گی
اور زندہ رہتے ہوئے بھی
تم مر جاؤ گے۔
مگر
اگر تم نے صبر کو پکڑ لیا
تو تمہاری کمزوری،
طاقت کا ہتھیار بن جائے گی۔
صبر
وہ زنجیر ہے جو ٹوٹ کر
آہنی دروازوں کو کھول دیتی ہے
وہ بھوکا ہاتھ ہے جو
آخرکار زمین کو ہلا دیتا ہے۔
دن تمہیں مار سکتے ہیں،
وقت تمہیں زخمی کر سکتا ہے
مگر صبر…
وہ بغاوت ہے جو کبھی نہیں مرتی
وہ ایمان ہے جو شکست کو
فتح میں بدل دیتا ہے۔
پس اے میرے ہمسفر!
جب بھی دن تمہیں دبائیں
صبر کو اپنی تلوار بنا لو،
اور خاموشی کو اپنی گرج۔
![]()
