Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

صَبْر ہی سَبْ سے طاقَتوَر ہے

صَبْر ہی سَبْ سے طاقَتوَر ہے

اِگَر تُم تھَم جاؤ
دِن تُمھیں رَوْند ڈالیں گے
وَقْت اَپنے پَہیّوں تَلَے
تُمھارے خْواب کُچَل دے گا۔

اِگَر تُم خَامُوش ہو جاؤ
تو سُکُوت تُمھیں دَفْن کر دے گا
تُمھاری آنْکھوں کی رَوْشَنی
اَندھیروں میں کھو جائے گی۔

لَیکِن اِگَر تُم صَبْر کرو
تو صَبْر اَپنی خَامُوشی میں
اِک طوفان ہے،
اَپنی کَمْزوری میں
سَب سے بَڑی طاقَت ہے
اور اَپنی تَأخیر میں
یَقین کی سَب سے اُونچی صَدا۔

صَبْر
وہ چِراغ ہے جو
طوفان کے دِل میں بھی جَلتا ہے۔
وہ دَرَخْت ہے
جو پَتھروں پر بھی جَڑ پَکڑ لیتا ہے۔
وہ راگ ہے
جو شِکَسْت کے بَعْد بھی
فَتْح کی طَرَف اِشارَہ کرتا ہے۔

پس…
اِگَر دِن تُمھیں مِٹا دینا چاہیں
تو صَبْر ہی وہ قُوَّت ہے
جو تُمھیں زِنْدَہ رَکھتی ہے۔

اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *