صحرَا کی تَنہائی
صحرَا میں تَنہا بَیٹھا ہُوں
اُداس خَیالوں میں گُم ہُوں۔
چاندنِی برَستی ہے یُوں
خَیرات بَٹے فَضاؤں میں۔
صحرا چَمکتا جاگَتا ہے
جَیسے جَگنُو بَدَن پہ نِکلیں۔
خامُوشی کا پَیغام ہے
نِیدیں رَہِیں بَند چَادَر میں۔
رَات نے مُجھ کو سُونَے نہ دِیا
کَیفِیَتِ غَم طُولانی۔
کَیسے اُمِید دُوں مَیں اُن کو
جِن کے لَبوں پہ نالے ہیں۔
چاندنِی بھی کانٹا بَن کر
دِل کی گَہرائی چُبھتی ہے۔
مَیں نے گُلاب ہی بُوئے تھے
کَانٹے دَامن سے جُڑ گئے۔
زَخم پہ ہاتھ رَکھتا ہُوں
آنکھ سے أَشک بہتا ہُوں۔
رَاستہ خَالِی، قَدم مِٹے
تَنہائی صَحرَا ساتھ مِرے۔
دَرد میں ڈُوبا یَہ سُوچ رَہا
کَل کی صُبح نَصِیب مِرے۔
لَوکُوں کو أَمن کی بَشارت ہو
نَوِید سُبُوحی پَہُنچے اُن تک۔
اِفری
![]()