Kheyal Darya

A mound of thoughts

Old Age

Poem نظم

اُمید کی زَنجِیر

مَیں نے دیکھی ہے أُن نِگاہوں میں جَمی ہُوئی پِیاس جَو اِنسانوں سے آس لَگاتی ہیں أور جَب خَواب ٹُوٹتے ہیں تَو خاموشی کے نیچے أیْک چیخ دَفن ہو جاتی ہے۔ مَیں نے سُنا ہے دھڑکنوں میں لَرْزتے ہُوئے وُہ…

Loading

سچی کہانی

محبوب آپ کے قدموں میں

پاکستان جاتا تو مزارات علامہاقبال و سید علی ہجویری رحہ پہ پونے دو سو کلو میٹر کا سفر کر کے فاتحہ کے لئے حاضر ہوتا۔ایک دفعہ خیال آیا کیوں نہ لوگوں کے  رویوں کا تجربہ کیا جاۓ۔میں نے داتا صاحب…

Loading

Me And My Blog

Welcome to Kheyal Darya : A space where reflections flow like a living river of imagination. This is more than just a personal blog; it is my open journal of life experiences, thoughts, and observations on the social and economic…

Loading