مَیں نے دیکھی ہے
أُن نِگاہوں میں جَمی ہُوئی پِیاس
جَو اِنسانوں سے آس لَگاتی ہیں
أور جَب خَواب ٹُوٹتے ہیں
تَو خاموشی کے نیچے
أیْک چیخ دَفن ہو جاتی ہے۔
مَیں نے سُنا ہے
دھڑکنوں میں لَرْزتے ہُوئے وُہ فِقرے
!جَو کہتے ہیں
“شاید وُہ میری خَبَر لے
شاید کوئی ہاتھ تھام لے
شاید کوئی دَر کھُلے…”
لیکِن
کِیا اِنسان خالِق ہو سکتا ہے؟
کِیا پَتھَّر کی مورت پانی دے سکتی ہے؟
کِیا سایہ، دُھوپ کا بَدَل ہو سکتا ہے؟
أے میرے دِل
اپنے زَخموں کو
کسی کی مُسکُراہٹ پر نہ رَکھ
اپنی اُمید کو
کسی فانی بَشَر کے قَدَموں میں نہ جھُکا
کَب تک غُلامی کرے گا
دوسَروں کے وَعدوں کی؟
کَب تک بُزدِلوں کی طرح
رَحمَت کو مخلُوق میں تَلاش کرے گا؟
یاد رَکھ
اُمید صِرف اُس ذات سے
جَو ہر لَمحے تمہارے قَریب ہے
جَو سُنتی ہے
بِن کہے بھی
جَو دَیتی ہے
بِن مانگے بھی
جَو کبھی تھَکتی نہیں
جَو کبھی رُکتی نہیں…
لہٰذا اِفری
آزاد ہو جا
اِنسانوں کی زَنجیروں سے
خواہِشوں کی بیڑیوں سے
أور صِرف
أُسی کی چَوکَھٹ پر سَر رَکھ
جَو تُجھے
دے سکتا ہے
وُہ بھی
جَو تُو سوچ نہیں سکتا !!۔
![]()
