Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poetry

محدب عدسے

پردیس بھی ہے ایک غریب خانہ
ہر کوئی سُناتا ہے اپنا ہی فسانہ
محدب عدسوں کا لباس پہنتے ہیں
لوگ جب بھی گھر سے نکلتے ہیں
شکلیں بدلتی ، شاہکار بدلتے ہیں
مڑ کر دیکھنا لوگ کئی بار بدلتے ہیں
ان عدسوں میں قد کاٹھ بدلتے ہیں
رشتے بدلتے ہیں ساتھ بدلتے ہیں
5 نومبر

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *