Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poetry

صحرا

بے طلب راستوں نے خطایا بہت 
دنیا کے حادثوں نے ڈرایا بہت 
پر نہ تھے اور میں صحرا میں آ گیا 
جلتے صحرا بدن کو جلایا بہت 
قلعہ رمال کا مت بنانا یہاں 
سوچنا صحرا نے ہی سکھایا بہت 
چلتے رہنے سے مل جاۓ گی منزل 
افری بابا نے جذبہ بڑھایا بہت

مئی 29, 2022

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *