Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem نظم

تیرا ذکر کیے بغیر

کیسے مناؤں اس خط کو
کہ جب سطر پر جھکے
تو لفظوں کے بیچ سے
تیری خوشبو اُٹھنے لگے

کاغذ کے باریک ریشے
تیری سانسوں کا لمس بن جائیں،
اور ہر جملہ
میرے دل کی دھڑکن جیسا لگے۔

میں تیرا نام نہ لکھوں
اور پھر بھی ہر لفظ
تیرے ہونے کا ثبوت دے
جیسے ہلکی سی ہوا
بغیر آواز کے بھی
تیرے قدموں کی آہٹ سنا دے۔

یہ خط…
میری خاموش محبت کا آئینہ ہے
جس میں تیرا عکس
بغیر پکارے بھی جگمگاتا ہے۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *