Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

غُربت کے لِبادے

کبھی سوچا ہے؟

غُربت کِتنے لِبادے اوڑھ کر

ہمارے اَردگِرد پِھرتی ہے؟

کبھی وُہ مَیلی قَمیص میں

اُس بَچّے کی صُورت، جو اِسکول کی بَجائے

ٹائر چمکاتا ہے۔

کبھی وہ ماں ہے،

جو دال میں پانی بَڑھا کر

خُود بھُوکی سوجاتی ہے۔

کبھی وُہ بابا ہے،

جو صُبح سے شام تک

کِسی چَوراہے پر مَزدُوری کی اُمید میں

اپنی عِزّت کا وَزْن تولتا ہے۔

کبھی وُہ چُپ رہتی ہے

کِسی نَوجوان کی آنکھوں میں

جو سَوال نہیں کرتا

بس چھَت مانگتا ہے، رُوشنی مانگتا ہے۔

غُربت صِرف پَیسوں کی کَمی نہیں

یہ خوابوں کا بِکھر جانا ہے

یہ عِزّت کا، تَعلِیم کا

اور آواز کا خاموش چھِن جانا ہے۔

اور ہم؟

ہم اَکثر دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے

سُن کر بھی چُپ رہ جاتے ہیں

کیونکہ غُربت کے لِبادے

ہماری رُوشنی میں سائے کی طرح چُھپ جاتے ہیں۔

—–

اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *