Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem نظم

خیالات اور حقیقت کی جستجو

ہم نے اپنے دلوں کو خیالات کے نرم دریا میں ڈبو لی

جہاں ہر لہر میں امید کی روشنی تھی

مگر حقیقت کی تلخی نے ہمیں تھکا دیا

ہم نے اپنے اندر کی آواز کو سنا

لیکن پھر بھی ہم اُسے سمجھ نہ پائے۔

خوابوں کی پرچھائیاں ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ گئیں

یہ نہ تھا کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا تھا

بلکہ وہ خود مر گئے، ہمارے لمس سے

جیسے مٹی میں دفن ہوتے خوابوں کے رنگ

اور پھر ان کے پیچھے ہم، ایک کھوئے ہوئے سفر کی طرح

جہاں نہ منزل تھی، نہ کوئی نشان۔

ہاں، ہم نے حقیقت کا ذائقہ چکھا

اور اس میں ایسے کرب کا سامنا کیا

جو دل کے بوجھ کو بڑھاتا چلا گیا

پھر بھی ہم نے خیالات میں پناہ لی

کیونکہ وہی ہیں جو ہمیں جینے کی امید دیتے ہیں

لیکن خوابوں کے مرنے کے بعد

ہم نے خود کو گم پایا

خالی ہاتھ، دل میں ایک سوال

کیا ہم کبھی سچائی کو جان پائیں گے؟

یا ہمیشہ اسی خواہش میں مبتلا رہیں گے

کہ ہم حقیقت کے سمندر میں

خیالات کی کشتی پر سوار رہیں؟

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *