Kheyal Darya

A mound of thoughts

حکایاتِ افراہیم

حکایت 10: الفاظ کے دھوکے

جو تمہیں آج  کے دن گرا دے، وہ کل تمہیں سہارا نہیں دے گا، الفاظ کے دھوکے میں مت آؤ۔”

دوسرے معنوں میں  اعمال الفاظ سے زیادہ سچے ہوتے ہیں، اور جس نے ایک بار تمہیں گرنے دیا، اس پر دوبارہ بھروسہ مت کرو۔

کہتے ہیں ایک بستی میں ایک بزرگ رہتے تھے۔ لوگ ان کے در پر آتے، اپنی الجھنیں سناتے اور دلوں کے بوجھ ہلکے کرتے۔
ایک دن ایک جواں سال سالک ان کے حضور حاضر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں شکوہ اور دل میں بوجھ تھا۔

اس نے عرض کیا
حضرت! میں نے ایک دوست  پر بھروسہ کیا تھا۔ وہ زبان سے وعدے کرتا رہا کہ ہر حال میں ساتھ دے گا۔ مگر جب میرا وقت آیا، وہی ہاتھ جو سہارا بننے تھے، مجھے دھکا دے گئے۔ اب وہ دوبارہ دوستی کا دم بھر رہا ہے۔ میرا دل کانپ رہا ہے کہ پھر دھوکہ نہ کھاؤں۔

بزرگ نے سر جھکایا، کچھ دیر خاموشی اختیار کی، پھر قریب پڑی لکڑی کی ایک بوسیدہ لاٹھی اٹھائی۔
انہوں نے کہا
بیٹا، دیکھو یہ لاٹھی! بظاہر سیدھی ہے، لیکن اندر سے کھوکھلی ہے۔ اگر کوئی مسافر اس پر سہارا لے تو یہ یکایک ٹوٹ کر اسے خاک میں دے مارے گی۔ عقلمند مسافر ایک بار کے تجربے کے بعد دوبارہ اس کھوکھلی لاٹھی پر بھروسہ نہیں کرتا۔

پھر بزرگ نے آہستہ سے فرمایا
جان لو! زبان کے وعدے دریا کی جھاگ کی مانند ہیں، جو لمحوں میں مٹ جاتے ہیں۔ اصل حقیقت عمل کی ہے۔ جو تمہیں آج کے دن گرا دے، وہ کل کے دن سہارا نہ بن سکے گا۔ دوست وہی ہے جو تنگی میں کندھا دے، ورنہ محض لفظوں کا ساتھی راہِ محبت میں بوجھ ہے۔

یہ سن کر سالک کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اس نے کہا
“حضرت! آج معلوم ہوا کہ بھروسہ لفظوں پر نہیں، عمل پر کیا جاتا ہے۔”

بزرگ نے مسکرا کر کہا
یاد رکھو بیٹا! انسان کے کردار ہی اس کا اصل چہرہ ہیں، اور جو ایک بار آزمائش میں گر جائے، اس پر بار بار بھروسہ کرنا اپنے دل کو دھوکہ دینا ہے۔

——-

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *