Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poetry غزلیات

غزل

کِیا ہوتا ہے مَیں ہوں کہ تُم ہو
اپنے ہیں سب ہی، خُوشی ہو یا غَم ہو

یادوں کی خُوشبُو ہے سانسوں کے ساتھ
خوابوں کے موسِم میں چاہَت کا نَم ہو

دُنیا کے رَستے بَدَلتے رہیں گے
مگر دِل کی رَہ میں ہمیشہ قَدَم ہو

چَرخوں کی مَحفل ہو یا خامُشی ہو
تُم پاس رہنا، اگر ہِجر کا دَم ہو

وَقت کے دَریا میں بَہتے ہیں خواب سارے
ساحِل پہ ٹھہرا بَس اک تیرا ہی دَم ہو

عِشق کی راہوں میں رَنگ ہے سب سُخَن کا
کہہ گیا “اِفری”، جہاں بھی غَم ہو یا نَم ہو

پَلکوں پہ رکھ لُوں مَیں اَشکوں کا بوجھ
تَسکینِ دِل کے لِیے بَس تُم ہی ہم ہو

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *