پَردیس میں رُوزی، سَر چُھپانے کو ٹھِکانے ڈھوںڈتا رہا
زَہریلا ناگ دیس میں، میرے گھر میں خَزانِے ڈھوںڈتا رہا
مَیں اُس کی دَہلیز پر اَپنا آخِری خَط چھوڑ آیا تھا
وُہ شَہر کو بَتانے کے لِیے فَسانے ڈھوںڈتا رہا
جِن دیواروں پر کَبھی مِل کر نام لِکھے تھے ہم نے
سُنا ہے اُنہیں مِٹانے کے بَہانے ڈھوںڈتا رہا
تَمام عُمر تو کَٹ گئی ہے صَحرَا میں اَے “اِفری”
چاںد ریت پہ نہ اُترنے کے بَہانے ڈھونڈتا رہا
![]()

