دمِ رخصت بوجھل دل سے میں بھی چلتا رہا
اس رات کوئی دہلیز سے لگ کے روتا رہا
اداس آنکھوں میں خواب ٹوٹ کے بکھر گئے
چراغ شوق ہوا کے دھکوں سے جھپکتا رہا
وصال کے دن بھی ہجر کی گرد میں چھپ گئے
گلوں کا رنگ تو ماند پڑا، غم ہی کھلتا رہا
پردیس کی گلیوں میں اجنبی تھا ہر قدم
میں اپنے ہی وطن میں بھی مسافر سا لگتا رہا
غمِ جدائی کے ساتھ غربت کا بوجھ بھی تھا
یہ دل لہو لہو ہو کے بھی سب سہتا رہا
افری نے دردِ دل کو سخن میں سمو لیا
جہاں میں ہنس کے جیا اور اکیلا ہی روتا رہا
————–
![]()


