تمام عُمر کی ہِجرَتوں سے کیا مِلا
وَطَن سے نِکالا نَفرَتوں سے کیا مِلا
نہ خاک خُوشبُو دی، نہ اَمْن کا سَہارَا
غَریب دیس کی غُربَتوں سے کیا مِلا
جہاں پہ خوابوں کی رَوشنی بُوئی تھی
وہیں پہ راتوں کی ظُلمَتوں سے کیا مِلا
خَفا تھا وَقت بھی، خَفا تھے لوگ سارے
مُحبَّتوں کی حَرارَتوں سے کیا مِلا
پَلَٹ کے دیکھا تو خواب خاک ہو گئے
ماضی کی اُن شِکَستوں سے کیا مِلا
ہر ایک وَعدہ فَریب بَن کے رہ گیا
جھُوٹی اُمید کی صُحبَتوں سے کیا مِلا
یہ دِل مُسافِر رہا ہر گھڑی مگر
وَفا کے نام کی مَنزِلوں سے کیا مِلا
تَمام راہیں فَقَط تھَکن کا رِزق تھیں
سَفَر کے سَبھی مَقاصِدوں سے کیا مِلا
گِنوا کے جَوانی ہِجرَتوں سے کیا مِلا
وَطَن سے نِکالا نَفرَتوں سے کیا مِلا
نہ اَپنے رہے ہم، نہ غیر دِل سے بَسے
یہ زَخمِ دِل کی شِدَّتوں سے کیا مِلا
جو خاک چھوڑِی تھی خواب بو کے کبھی
اُسی کی چھاؤں سے راحتوں سے کیا مِلا
پَناہ ڈھونڈی تو دَر بَدَر ہوا نَصیب
غَریب دیس کی غُربَتوں سے کیا مِلا
کہاں تھے وَعدے جو رَوشنی کے ہوئے
اَندھیری رات کی ظُلمَتوں سے کیا مِلا
نہ آسْرا مِلا، نہ کوئی ہَمسَفَر رہا
یہ بے بَسی کی صُحبَتوں سے کیا مِلا
جو چھوڑ آیا تھا پِیار، یادیں، رِفاقتیں
پَلَٹ کے اُن ہی حَسرتوں سے کیا مِلا
اِفری کے دِل کی محبّتوں سے کیا مِلا
سَفر کے راہی کو وَحشَتوں سے کیا مِلا
Recorded…..
![]()