ایک نیا آغاز
کسی کے آنے کا مت انتظار کرو
کہ وہ تمہیں بچائے گا
اُٹھو…
چاہے آہستہ آہستہ ہی سہی
اپنی بکھری ہوئی دنیا سمیٹو
چاہے خاموشی میں ہی سہی
خود سے کہو:
“میں قابل ہوں
میں نیا آغاز کروں گا”
خود کو بدلنا
اچانک ممکن نہیں ہوتا
یہ چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا نام ہے
کہ غصے پر سکون کو چُنا جائے
کہ وہ رشتہ توڑا جائے
جو دل کو زخم دیتا ہے
کہ کتاب کھولی جائے
خاموشی اوڑھی جائے
قدم آگے بڑھایا جائے
اور خدا کی طرف لوٹ آیا جائے
ہر لمحہ ایک فیصلہ ہے
ہر سانس ایک نیا رُخ ہے
اور ہر قدم
اُس رُوپ کی طرف بڑھتا ہے
جو برسوں سے
تمہارے انتظار میں ہے۔
اِفری
![]()

