Kheyal Darya

A mound of thoughts

حمد

کھوج


کھوج

ہم اس احمقانہ دنیا میں جی رہے ہیں،
جہاں جھوٹا شخص امانت دار سمجھا جاتا ہے
اور صاف گو انسان کو سخت مزاج کہا جاتا ہے۔
جہاں مذاق کرنے والا بے وقعت ٹھہرتا ہے
اور تربیت کی تمام قدریں بکھر جاتی ہیں۔

ہمارے قہقہوں اور ہلکے پھلکے انداز کو
تم ہماری شخصیت کا پیمانہ نہ سمجھو۔
ہم وہ ہیں جو ماؤں کے سایوں تلے شفقت میں
دیہات کی آذاد فضاؤں میں پلے بڑھے،
جہاں حکمت اور ادب سانس لیتے تھے۔

ہم وہ ہیں جو مسجدوں کے گوشوں میں تربیت یافتہ ہوئے
اور اعلیٰ تعلیم کی سندیں بھی حاصل کیں۔
لیکن آج ہم اس منافق اور جاہل معاشرے کی
جدید احمقانہ روشوں میں گم ہو گئے ہیں۔

وہ ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں،
یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم الفاظ اور جھوٹے وعدوں کے پیچھے
چھپی حقیقتوں کو نہیں دیکھتے۔
جب کہ ہمارے پاس ایک ترازو ہے،
جس میں ہم ہر لفظ اور ہر معنی کو تولتے ہیں۔

ہم بدلے میں بدلہ نہیں دیتے،
بلکہ مسکرا کر جیتے ہیں،
اور ہمیں اپنے رب پر یقین ہے
کہ وہ ہمیں ان کی زہریلی باتوں،
ان کے شکوک و شبہات اور
ان کے خبیث دلوں کی سازشوں سے بچائے گا۔

یاد رکھو! تربوز جب پتھر سے ٹکراتا ہے
تو پھٹ جاتا ہے اور پھر کوئی اسے نہیں خریدتا۔
اسی طرح کبھی ایک شخص کو دوسرے سے نہ ناپو،
کیونکہ ہر انسان اپنی جگہ منفرد پیدا ہوا۔

اگر کوئی تمہارے ساتھ غلطی کرے
تو بدلے کو انسانوں کا پیمانہ مت بناؤ۔
جس نے تمہیں نقصان نہیں پہنچایا
اسے کسی اور کے جرم پر سزا مت دو۔

اپنے اعمال کی ذمہ داری خود اٹھاؤ،
اور دوسروں پر بلاوجہ اپنی غلطیوں کا بوجھ نہ ڈالو۔

اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *