Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem

اذنِ سفر

اذنِ سفر

شام ہونے کو ہے…
اداسیوں کے موسم میں،
روح کا زخمی، اداس پنچھی
اپنے ماحول سے اکتا کر
کبھی کبھی اذنِ سفر مانگتا ہے۔

جیسے تپتے ہوئے صحرا کا مسافر
بگھولوں کی دہشت سے گھبرا کر،
سرابوں کے بے رحم سمندر سے
کسی گھنے پیڑ کا سایۂ شجر مانگتا ہے۔

میری سوچوں کی انگلی تھامے
یہ بے قرار دل، یہ آوارہ خیال
کوہِ قاف کے سفر پر نکلا ہے،
جہاں حسن کی نگری میں
بدیع الجمال کا جلوہ ہے،
جہاں خوابوں کی سرزمین پر
سیف الملوک اذنِ سفر مانگتا ہے۔

اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *