تم نے پردیسیوں کے چہروں کی مسکراہٹیں تو دیکھی ہیں
مگر اُن کی ادھوری نیندیں، بے خواب آنکھیں نہیں دیکھیں
دھوپ میں جلتے خواب، پسینے سے شرابور ماتھے
ان کے قدموں کے چھالے، بیابان راتیں نہیں دیکھیں
عجیب ساحلوں پر قسمت ڈوبتی ہے ہر روز
نہ کوئی سہارا، نہ اپنوں کی آواز کا جادو
بیچ دئیے جاتے ہیں یہ لوگ غیر زمینوں پر
قربانی کے جانوروں کی طرح، بے دام، بے ابرو
تم کو نظر آتی ہے ان کی بھیجی ہوئی رقم
مگر اُن کے دل پر کٹے لمحوں کا حساب نہیں
تم کو گرم چائے کی چُسکی میں سکون ملتا ہے
مگر وہ تپتے صحرا میں پگھلتے ہیں، خواب نہیں
میرے جوان، سینہ تانے، سینتالیس میں کھڑے
جسم پر سورج اُترے، مگر ہنر میں سچے بڑے
دُور دنیا دبکی ہے اے سی کے کمروں میں
یہ محنت کش، چٹانوں جیسے، سب کچھ سہے
دل دیکھ کر جلنے لگتا ہے پشیمانی کے ساتھ
کہ ہم نے دی ہے کیسی قیمت، کیسی حکمرانی کے ساتھ
پینتالیس درجہ قابلِ قبول نہیں یہاں
جہاں تعلیم ہے نایاب، حکمت بھی نہیں یہاں
وطن کے بیٹے بیچ دئیے، خوابوں کے سُود میں
رہ گئے ہم صرف تقریروں کے، ضد میں
کب بدلے گا یہ منظر، کب اٹھے گا سوال؟
کب سنبھلے گا مزدور، کب بیدار ہوگا خیال؟
![]()
