کیسے مناؤں اس خط کو
کہ جب سطر پر جھکے
تو لفظوں کے بیچ سے
تیری خوشبو اُٹھنے لگے
کاغذ کے باریک ریشے
تیری سانسوں کا لمس بن جائیں،
اور ہر جملہ
میرے دل کی دھڑکن جیسا لگے۔
میں تیرا نام نہ لکھوں
اور پھر بھی ہر لفظ
تیرے ہونے کا ثبوت دے
جیسے ہلکی سی ہوا
بغیر آواز کے بھی
تیرے قدموں کی آہٹ سنا دے۔
یہ خط…
میری خاموش محبت کا آئینہ ہے
جس میں تیرا عکس
بغیر پکارے بھی جگمگاتا ہے۔
![]()