Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem نظم

تقدِیر کو تدبِیر سے سیراب کر

تَقدِیر کو تَدبِیر سے سَیراب کر
سُن بات! خُود کو ایسے کام یاب کر

مِحنت کے چراغ سے اَندھیروں کو مِٹاؤ
ہر لَمحہ اپنی عقل و جان کو تابدار کر

ہِمّت وہ کِشت ہے جو زمِین پر بُوئی جاتی ہے
ہر خواب کو حقیقت میں بدلنے کا عَزم برقرار کر

ناکامی کے پہاڑ بھی راستہ دِکھا دیں گے
صَبر اور یقین سے دِل کو ہر آزمائش سے ہم کنار کر

ہر شِکست کے بعد نیا حَوصلہ پیدا کر
خُود کو بُلند کر، اپنی راہوں میں روشنی آشکار کر

وقت کے پانی میں کشتی اپنی خُود بنا
لَہروں کے ساتھ لڑتے، ہِمّت سے دریا پار کر

جو چاہے دِل سے، وہی پا سکتا ہے یہاں
ایمان اور عمل کی روشنی سے راستہ ہَموار کر

ہر مُشکل لَمحہ ایک اُستاد کی طرح ہے
اُس سے سیکھ کر اپنی راہوں کو تابدار کر

دِل کے ہُجوم میں سکون پیدا کر، یقین رکھ
زِندگی کے ہر لَمحے کو اپنی طاقت سے سَنوار کر

اِفری! حَسرت کے بادل چھَٹ جائیں گے روزِ مِحنت
تَقدِیر کی کتاب میں اپنے قدم خُود شُمار کر

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *