Kheyal Darya

A mound of thoughts

A moral tale، A parable with a lesson، Anecdote، challenges، dubai، Education، Fable، Family، Forgotten Motivational لیکچرز

نیکی

نیکی
انسانی دل و دماغ بھی اللہ نے بڑا زبردست بنایا ہیں۔ جب کوئی بات دل میں آ جاۓ تو ذہن میں جا کر خیال کی صورت چپک جاتی ہے پھر جب اس کا کیمیکل عمل شروع ہوتا ہے تو اس جیسے بہت سارے مثبت منفی خیالات کے خاندانوں کی طرح ہی باہم کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ جیسے ہم جانتے ہیں کہ خون کے سرخ و سفید جراثوں کی طرح ایک دوسرے پہ حاوی ہونا چاہتے ہیں۔ گویا خیر شر کا معاملہ ہر جگہ موجود رہتا ہے۔

جس طرح فساد اور جنگ و جدل ہیجان و پریشانی کا بھی باعث ہوتے ہیں بعینہ ان خیالات کے گھمسان کی صورت میں انسان بے چین اور فکرمند رہتا ہے۔ اس کی کیفیت حاملہ کے آخری دنوں جیسی ہو جاتی ہے جسے کسی پل چین نہیں آتا کہنا یہ چاہتا ہوں تخلیق ایک مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے آپ فکر مند لوگوں کو دیکھ کر عجیب محسوس کرتے ہیں بعض تو اپنے وقت سے مطابقت نہیں رکھتے اور انہیں ان کے حواری رد کر رہے ہوتےہیں۔ ہر بڑے نام کے ساتھ یہی ہو ا کہ ان کے مرنے کے بعد لوگوں کو ان کے فکری بلندہ کا احساس ہوا۔ ازلی و ابدی اعمال و اقدار دنیاوی اقدار سے ایک الگ پیمانہ ہے۔

میرے دل سے نیکی کا جذبہ ابھرا تو ذہن میں وہ خیال بن کر پروسس ہونے لگا۔ کہا جاتا ہے “نیکی کر دریا میں ڈال” ۔

منفی انسانی لالچ و شیطانی وسوسہ نے سوال کیا میں اپنے حصے کا مال کیوں دوں ؟

مثبت خاندان کے خیالوں نے وکالت کرتے ہوۓ کہا کہ اللہ کا حکم اور نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی سنت اور خیر انسان کی سرشت میں ودیعت کی ہے۔

تین دن گزر گئے عجیب بے چینی کی کیفیت تھی کہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اب اطمینان قلب کے لئے اللہ سے مدد و استعانت طلب کرنا انسانی ضروت اور ایمان کی مضبوطی کا باعث بھی ہوتی ہے جیسے ابو انبیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا تھا کہ تو کیسے زندہ کرتا اور مارتا ہے۔
سوال و سمجھ ہمارے ایمان کو تقویت دیتے ہیں اور اللہ کو اپنے بندے کی یہ ادا اچھی بھی لگتی ہے اسی لئے تو وہ آیت الکرسی سے ہمیں اپنی قدرت سمجھاتا ہے۔

بتاتا چلوں میاں محمد بخش رح کا ایک شعر ہے
خاصاں دی گل نہیں مناسب عاماں اگے کرنی
مٹھی کھیر پکا محمد کُتیاں اگے دھرنی
مجھےاس کا مطلب سمجھنے کے لئے ایک صاحب اوصاف و کردار کے پاس ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کر جانا پڑا کہ کتا اگر میٹھا کھا لے تو کس انجام سے دوچار ہوتا ہے۔خیر اللہ نے بھی سمجھایا بقول قران .
بسم الله الرحمن الرحيم
وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾
اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے ۔ یہ لوگ چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں۔

اللہ کا ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ہمیں ایمان و ہدایت بخشی، اپنے نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی امت میں پیدا کیا، ہمیں دل کی کجہی سے بچایا اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بخشی ۔

خیر میں نیکی کے خیالات کے پروسس اور حالت جنگ کی بات کر رہا تھا۔ ہمیں اللہ سے استخارے (مدد) کی عادت نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ڈالی۔ دانا لوگ یہ بھی کہتے ہیں ایک کاغذ پہ مثبت و منفی خیالات لکھنےلینے سے بھی فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
بہت سوچا سمجھ نہیں آ رہی تھی تو تیسرے دن صلوةالفجر میں اللہ سے پھر مدد کی دعا کی تو دفتر جاتے ہوۓ گاڑی کے ٹریفک سگنل پہ رکنے پہ ذہن کھلا تو سبحان اللہ واہ الحمد للہ کہہ کر مسکرا دیا۔

گویا نیکی کر دریا میں ڈالنے کا مطلب تھا اگر نیکی کرو تو صلہ کی امید اس سے مت رکھو جس سے آپ نیکی کر رہے ہوتے ہو۔ اور پھر حکم ہے کہ نیکی کرکے جتانے سے بھی اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔

نیکی کا صلہ اللہ کے ہاں مقرر ہو جاتا ہے اور پھر جیسے ہم دونوں جہانوں کی فلاح کی دعا کرتے ہیں تو اللہ الرحمن الرحیم ہے جس نے اپنے چہرے پہ رحمت لکھی ہوئی ہے۔ جہاں وہ صدقہ جاریہ کے اجر کا قیامت تک کے لئے کاونٹر و میٹر چلا دیتا ہے ویسے ہی دنیا میں جس سے نیکی کی جاتی ہے اس کے زریعے ماحول خود خیر پیدا کرنے لگتا ہے( conducive environment ) لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے خیر سگالی پیدا ہونے لگتی ہے۔ یوں معاشرہ اس کی پشت پہ کھڑا ہونے لگتا ہے۔

ڈرائیونگ لائسنس کا ٹیسٹ قریب آ رہا تھا تو اکثر دوبئی کے مصروف ترین فالکن چوک میں جا بیٹھتا کہ میں کیسے ڈرائیو کرونگا۔ یہ ایسے ہی تجسس تھا جیسے نوکری شروع کرنے سے پہلے تھا کہ کیا ہو گا کیسے ہو گا؟ شاید انسان فکر میں خود کو تیار بھی کرتا ہے اس لئے ہی کہا کہ یہ بھی اللہ کی عطا ہی ہوتی ہے۔ سڑک کنارے بیٹھ کر تو لگتا تھا کہ شاید میرے بس کی بات نہیں ۔تھی اتنی رفتار اور زناٹے دار آوازیں

جن دنوں میں نے لائسنس کے لئے اپلائی کیا تو چند احباب کو ملنے گیا تو وہ بونگیاں مار رہے تھے کہ اس وقت یہ مشکل سے ملتا تھا اور لوگ اکثر کہا کرتے تھے کہ ڈگری پہلے مل جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے میرے ساتھ چند سینئر آفیسر تھے جنہوں نے بیس سے زیادہ دفعہ کوشش کرکے بدستور فیل ہو رہے ہوتے تھے۔ ٹیسٹ کے بعد بالکل ایسے ہی راسب/ ناجح (فیل/ پاس) کا سوال کیا جاتا ہے تھا جیسے بچے کی پیدائش پہ سارے کام چھوڑ کر بے چین ہوتے ہیں۔اور پوجھتے ہیں کیا ہوا؟

صبح سویرے پولیس سٹیشن پہنچ گیا تو وہاں ایک کار میں چار لوگ یولیس آفیسر کے ساتھ ٹیسٹ ڈرائیو پہ جاتے تھے۔ غالبا” ہم تین پاکستانی اور ایک ہندی کا گروپ بنا۔

اب چونکہ پاکستان میں میں پولیس کے آئی جیز! ڈی آئی جیز سے بسلسلہ ملازمت مل چکا تھا اور پھر چھاونی علاقہ کے رہائشی ہونے کی وجہ سے آفیسرز سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ میں نے جلدی سے انہیں الگ کیا اور بوسٹر لیکچر جھاڑ دیا۔ انہیں پیمپر کیا کہ انسان اور قانون کو دیکھو کاندھے پہ لگے سٹارز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ سب ایسے تیار ہوۓ جیسے پہلی یا دوسری بار پیراشوٹ سے جمپ کر رہا ہوتا ہے ‘ ڈر ہوتا ہے مگر پیچھے کھڑا استاد ھلا شیری کرکے دعا کے ساتھ ہاتھ کا لمس دے رہا ہوتا ہے یا یوں کہیں بچے آپس میں کھیل میں چھوت لگاتے ہیں۔

اية الكرسي کا ورد کرکے سٹینڈ بائی ہوگئے آفیسر نے ٹائی لگی دیکھ کر پہلے مجھے ہی دعوت دے دی۔ میں خوشی خوشی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا چلنے سے پہلے فیل ہونے کا وسوسہ آیا تو میں نے جھٹ بلند آواز میں اعوذ باللہ پڑھ کر گاڑی چلانا شروع کر دی سب اچھا رہا کیونکہ آفیسر نے زیادہ وقت دیا اور کچھ نہیں بولا پھر وہ مجھے دوبارہ بازار میں لے آیا۔ یہاں اس نے سگنل پہ رکوا کر بائیں طرف الغریر سنٹر کے سامنے کی طرف جانے کو کہا تھا۔ سگنل بند ہوا تو دوبارہ چلتے ہوتے ہینڈ بریک ریلیز کرنا بھول گیا کیونکہ زہن میں یقین ہو چلا تھا کہ آج کےٹو سر ہو جاۓ گا۔ لیکن اسی دوغلی سوچ پہ ہینڈ بریک کو بھولا تو آفیسر کا سرکتا ہوا ہاتھ دیکھ فورا سے ہینڈ بریک ریلیز کردی اور معذرت کر لی۔ باری ختم ہونے پہ پیچھے بیٹھتے نئے ساتھی کو چھوا کہ اس کا حوصلہ قائم رہے! پھر اللہ سے مدد کی دعا تو حیرانگی کی بات تھی اس گاڑی میں بیٹھے سب لوگوں کو لائسنس مل گئے جو ایک انہونی اور سب کے لئے سرپرائیز تھا۔

(محمد افراہیم بٹ۔ دوبئی نومبر ۳۰۱۳)

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *