Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

بَس ٹھاہ

ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

راستے میں اندھیرا چھا جائے
رُوشنی کا دِیآ بھی بُجھ جائے
حَوصلے کو نَہ دینا کمزُوری
ساتھ دِل کے رہے گا یہ راہ
ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

زندگی ہے سَفَر کا اَفسانَہ
غَم بھی ہے اور خُشی کا بہانَہ
دھوپ میں بھی سکُون کا پیغام
سایَہ دے گا تیرا ہی گواہ
ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

دُوستی کی طرح جگمگاتا رہے
پیچ راہوں میں بھی ساتھ آتا رہے
حَوصلَہ دِل کا مَشعل بنے گا
پھر اندھیروں سے ملے گی پناہ
ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

راہی بَن کے چل او یارا
ساتھ نَہ چھوڑِیے ہُن دوبارا
حَوصلَہ رَکھِیے دِل دے نال
ظُلمَت ڈَہ جائے، آوے پناہ
ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

سچ دِیاں راہواں تے چلنا
ویرانِیاں وِچ فَیر کَلے جَلنا
حَوصلے نُوں نَہ دینا ہار
سُکھ تے دُکھ دا اَیہہ ہے گواہ
ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

یار تے سَجَن سَنگ لَوائے
ڈھولَک والیاں تَاں سُر چَوائے
سچ تے حَوصلَہ نال جِیونا
اندھیرا مِٹ جاوے، آوے صبَاح
ہر خَطرَے سے رَہنَا آگاہ
ہو جائے گا کہیں بھی بَس ٹھاہ

اِفری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *