
آج فیس بُک پہ ایک بہت دلچسپ مضمون بُلبُل کے مذکر و مؤنث ہونے کے بارے میں پڑھا تو بہت اچھا لگا کیونکہ عربی میں بھی اُسے بلبل ہی کہتے ہیں۔ اور جب کسی خوبصورت دوست کو دیکھتے ہیں تو یاھلا ، یاھلا، یا بُلبُل کے الفاظ خوشی کے انداز میں ادا کرتے ہیں۔
طلوع آفتاب سے ہہلے صبح صادق کے وقت جب بُلبلیں مدھر سروں سے حمد و ثناء کرتی بھلی لگتیں ہیں تو میں صحن میں بیٹھ کر اس شکر کے نغمے کا حصہ بننے کی کوشش کرتا ہوں۔
اب اس مضمون کے حوالے سے کہ اساتذہ کی قدر بہرحال کرنی چاہیے، لیکن ایک سوال اپنی جگہ ہے: اگر خود زبان ہی اپنے قواعد، تلفظ، مذکر و مؤنث اور مستعملات کے معاملے میں کہیں کہیں الجھاؤ کا شکار ہو تو استاد آخر کس میزان سے فیصلہ کرے؟
زبان کبھی لغت سے دلیل لاتی ہے، کبھی اہلِ زبان کے استعمال سے، کبھی شاعر کے مصرعے سے اور کبھی زمانے کی رَو سے۔ کہیں اسکول ہے تو کہیں سکول، کہیں مزاج تو کہیں مجاز، کہیں بے شک تو کہیں بشک؛ تلفظ بدلتا ہے تو کبھی معنی بھی اپنا رنگ بدلنے لگتا ہے۔ پھر ایک ہی لفظ مختلف زمانوں، علاقوں اور ادبی روایتوں میں مختلف صورتیں اختیار کر لیتا ہے۔
گاؤں میں چونکہ علاقائی لب و لہجہ عام ہوتا ہے، اس لیے زبان کی ابتدائی تعلیم بھی اسی ماحول سے اپنا رنگ لیتی ہے۔ ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول میں، شاید دوسری جماعت کا واقعہ ہے، ہمارے ایک دوست “ہسپتال” کو “بستال” پڑھا کرتے تھے۔ اگرچہ بعد میں درستگی ہو گئی، لیکن آج تقریباً ساٹھ سال بعد خیال آتا ہے کہ ہمارے گاؤں کے سامنے سی ایم ایچ تھا، جسے انگریزوں نے مقبوضہ زمین پر قائم کیا تھا جو انگریزی قانون کی طرح آج بھی جاری ہے۔ اس کی گاڑیوں پر بھی انگریزی میں “ہوسپٹل” اور اردو میں “ہسپتال” لکھا ہوتا، جس سے مقامی لوگ بھی کبھی کبھی کنفیوزڈ رہتے تھے۔
مقامی الفاظ اور لہجہ دراصل اس ماحول کی تعلیم اور تہذیب کا پتا دیتے ہیں۔ میں شہر کے ایک مکینک کے پاس بارش کے بعد گاڑی سے آنے والی ایک عجیب آواز دکھانے گیا۔ استاد نے گاڑی چیک کی اور فرمایا:
“جناب! باقی گاڑی ٹھیک ہے، بس اس کے گوڈے (Shock Absorbers) خراب لگتے ہیں، بدلنے پڑیں گے!”
لفظ “گوڈے” سن کر شاید کوئی لغت کھول بیٹھے، مگر مکینک کے لیے وہی لفظ بالکل واضح تھا؛ وہ اپنی پیشہ ورانہ دنیا میں اسی زبان کے ساتھ کام کر رہا تھا۔
ایک دلچسپ واقعہ گریجویشن کے انگریزی کے پرچے کا بھی ہے۔ نوجوان طلبہ امتحانی ہال میں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ انچارج ایگزامنر کھڑے ہوئے اور ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے:
“سب پرچہ حل کرنے سے پہلے سوال نامے پر لکھی ہوئی انسٹرکشناں پڑھ لیں۔”
ہمارے دیرینہ دوست اور موجودہ ریڈیو اور ٹی وی کے صدا کار و فنکار عامر ہاشمی کا ظرافت میں خاص انداز تھا۔ فوراً پوچھ بیٹھے:
“پروفیسر صاحب! یہ Instructions ہیں یا انسٹرکشناں؟”
پروفیسر صاحب نے بے نیازی سے فرمایا:
“جیسے مرضی کہو، بس معنی سمجھ لو!”
بات بظاہر ہنسی کی ہے، مگر زبان کے ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے: کبھی لفظ سے زیادہ اہم اس کا مفہوم ہوتا ہے، اور کبھی تلفظ، ساخت اور ادائیگی ہی زبان کے حسن اور تہذیبی شناخت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ہمارے حیدرآبادی دوست اپنی مخصوص ادائیگی میں بعض لفظوں کو ایک الگ ہی رنگ دے دیتے ہیں، اہلِ لکھنو اپنے تلفظ اور نزاکت کے ساتھ زبان کو ایک خاص آہنگ عطا کرتے ہیں، جبکہ دہلی ، کراچی ، پشاور اور لاہور کی اپنی اپنی لسانی روایتیں ہیں۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو کا اصل مرکز کہاں ہے؟
جب عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی سے الفاظ اردو کے دامن میں شامل ہوتے ہیں تو ہر ایک اپنے ساتھ اپنا تلفظ، اپنا صرفی مزاج اور اپنی لسانی روایت بھی لے آتا ہے۔ زبان کا حسن یقیناً اس کی وسعتِ قلبی میں ہے، مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہر آنے والے لفظ کو ہر صورت میں قبول کر لینا ہی زبان کا حسن ہے، یا اس حسن کے لیے کوئی داخلی میزان بھی ضروری ہے؟
ایسی زبان کبھی کبھی اُس دلہن کی مانند لگتی ہے جو ولیمے کے بعد رشتہ داروں کے دیے ہوئے مختلف تحفوں سے گھر سجاتی ہے؛ کسی چیز کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے، کسی پر حیران۔ کوئی پوچھے:
“کیا پسند آیا اور کیا نہیں؟”
تو مسکرا کر کہتی ہے:
“چلو خیر ہے… کوئی بات نہیں… استعمال ہو ہی جائے گا!”
اسی لیے مسئلہ صرف اساتذہ کی قدر کا نہیں۔ کبھی کبھی زبان خود بھی اپنے اساتذہ کو امتحان میں ڈال دیتی ہے۔
لغت ایک طرف ہو، شعری روایت دوسری طرف، اہلِ زبان کا چلن تیسری طرف، مختلف علاقوں کے تلفظ الگ الگ، اور مختلف عہدوں کے استعمال اپنی اپنی جگہ تو پھر بُلبُل کے مذکر یا مؤنث ہونے کا فیصلہ بھی اُس گدھے پر لدی کتابوں کی طرح دو حصوں میں بٹ سکتا ہے:
دائیں طرف کی کتابیں کچھ کہتی ہیں، بائیں طرف کی کچھ اور۔
بچپن میں گاؤں کے باغات میں جاکر ہم بچے بھی پرندوں کے مذکر مؤنث ہونے پر اپنے دلائل پر بضد رہتے تھے پھر ایک بزرگ نے ایک دن بتایا کہ بُلبُل کے (مخصوص حصہ) رنگ سے اندازہ لگا لیا کرو۔
اور پھر ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ سُرخ والی (مؤنث) کیونکہ سُرخی پاؤڈر کی شوقین اور پیلے رنگ (مذکر) پریشان حال پیلیا ہوا ہوتا ہے۔ اب آپ شاید اس دلیل سے اور مغلطے کا شکار ہو جائیں! لیکن پھر ہمارے درمیان کبھی بحث نہیں ہوئی تھی۔
اور اگر کتابیں بھی فیصلہ نہ کر سکیں تو شاید کوئی صاحب بُلبُل کے رنگ و روپ، نرمیِ پر و بال اور ظاہری ساخت کو دیکھ کر کہہ اٹھیں:
“جناب! کتابوں کو رہنے دیجیے، بُلبُل کے رنگ ہی سے اندازہ کر لیجیے کہ یہ مذکر ہے یا مؤنث!”
یہاں آ کر معاملہ زبان کے اختلاف سے نکل کر ہماری اپنی قیاس آرائی تک پہنچ جاتا ہے۔
شاید ایسے مقام پر استاد کا کمال یہ نہیں کہ وہ کسی ایک کتاب کو آخری فیصلہ بنا دے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اختلافِ زبان کی وجہ، اس کی روایت، اس کے استعمال اور اس کے پس منظر کو سمجھائے۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ کل کوئی طالب علم پھر پوچھ بیٹھے:
“سر! بُلبُل مذکر ہے یا مؤنث؟”
اور استاد جواب دینے کے بجائے پہلے گدھے کا دایاں اور بایاں پہلو دیکھنے لگے!
۔۔۔۔
سلامت رہے
اِفری
![]()