معاشرتی جمود: ایک خاموش اجتماعی بحران
پردیس کے صحرائی ماحول میں برسوں گاڑی چلانے کے بعد جب میں پاکستان آیا تو والدِ مرحوم کے ساتھ کشمیر میں رشتہ داروں سے ملنے کا سفر کیا۔ میں خود ڈرائیونگ کر رہا تھا، مگر جلد احساس ہوا کہ ہر ماحول، معاشرہ اور جغرافیہ اپنی الگ ضروریات اور احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ پہاڑی راستے، اندھے موڑ، بے اصول ڈرائیونگ اور پھسلن بھری سڑکیں محض مہارت نہیں بلکہ پیشگی فہم اور حاضر دماغی مانگتی ہیں۔
اس سفر میں والد صاحب ہر موڑ پر اپنے تجربے کی روشنی میں راہنمائی کرتے رہے، تب سمجھ آیا کہ زندگی میں کسی دانا راہنما کی موجودگی کتنی ناگزیر ہے۔ جذبہ اور اعتماد اپنی جگہ، مگر احتیاط اور شعور کے بغیر یہ خطرہ بن جاتے ہیں۔ اگر ہم ایسے والدین، اساتذہ اور راہنماؤں سے محروم ہو جائیں تو پھر انجام کا تصور کرنا مشکل نہیں۔
میں خود کو عمرانیات کا طالب علم سمجھتا ہوں، اس لیے ماحول اور معاشرے کو سرسری نہیں بلکہ گہری نظر سے دیکھتا ہوں۔ حال ہی میں ٹک ٹاک پر ایک جملہ سنا: “کی ہو رہیا ہے؟” یا “وڑ گیا!” بظاہر یہ محض مزاحیہ اظہار ہے، مگر در حقیقت یہ پورے معاشرتی انتشار کا سوال بن چکا ہے۔ ایسے ہی جیسے اشتہارات میں “داغ اچھے ہوتے ہیں” یا “لگے رہو” جیسے نعرے، جو محض مصنوعات نہیں بیچتے بلکہ سوچ کے زاویے بدل دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے بعض کمپنیاں اور سرمایہ کار ہمارے جیسے معاشروں کو اپنی کمتر اور غیر معیاری مصنوعات کی منڈی بنا چکے ہیں، اور اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل ہوتے ہی انہیں ہر طرح کی بے لگام آزادی مل جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طاقت کا زور ہمیشہ عام لوگوں پر آزمایا جاتا ہے، جبکہ اصل ذمہ دار طبقے ہر احتساب سے محفوظ رہتے ہیں۔
میں پہلے ہی پاکستان کی جامعات اور ان سے وابستہ ماحول سے شاکی تھا، جہاں بعض عناصر نوجوانوں کو استحصالی چکر میں پھنسا کر مجبوریاں تھوپتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں جہاں ہر فرد احساسِ کمتری کا شکار ہو، چائے ہاؤس، فارم ہاؤس یا ثقافتی پارٹیاں دراصل ناجائز ذرائع سے چلنے والی عیاشی اور حقیقت سے انحراف کی محفلیں بن جاتی ہیں۔ آج کے حالات میں اگر کوئی بتائے کہ وہ کالج یا جامعہ کے ہاسٹل میں رہا، تو محتاط رویہ اپنانا پڑتا ہے، کیونکہ خبروں اور معاشرتی رویوں سے اکثر اداروں کی تصویر کچھ بھی اچھی نہیں دکھائی دیتی۔
میری اس تحریر کا مقصد پے در پے آنے والی خبروں پر ہے جس میں نوجوان خود کُشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی فکری اور اخلاقی صحت کا اندازہ اس کے تعلیمی اداروں سے لگایا جاتا ہے۔ جامعات وہ مراکز ہوتی ہیں جہاں نوجوان ذہن مستقبل کے خواب بُنتے، سوال اٹھاتے اور زندگی کو معنی دیتے ہیں۔ ہر روز نیا دکھنے اور اپنی انفرادی پہچان کی کوشش میں خواہشات کے ساتھ ساتھ رنگ برنگے لباس زیبِ تن کرتے ہیں جو ان کی بھرپور زندگی کا اظہار ہوتا ہے۔ مگر جب انہی اداروں میں پڑھنے والے نوجوان خود کُشی جیسے انتہائی قدم پر مجبور ہو جائیں تو یہ محض چند انفرادی واقعات و سانحات نہیں رہتے، بلکہ ایک گہرے اور ہمہ گیر سماجی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ صورتحال اس امر کی علامت ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف انتظامی، سیاسی یا تعلیمی سطح پر ناکام نہیں ہو رہا، بلکہ معاشی دباؤ، اخلاقی انحطاط اور روحانی خلا نے اجتماعی شعور کو مفلوج کر دیا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جو خود کو مذہبی کہلاتا ہے، جہاں اسلام میں خود کُشی کو صریحاً حرام قرار دیا گیا ہے، اس عمل کا بڑھ جانا اس بات کا واضح اعلان ہے کہ ناامیدی، بے سمتی اور اقدار کا زوال حد سے تجاوز کر چکا ہے۔
آج تعلیم محض ڈگری کے حصول تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ زندگی خود ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان ذہن روزگار کی غیر یقینی صورتِ حال، سماجی ناانصافی اور مسلسل ذہنی دباؤ کے نیچے پس رہے ہیں، مگر ان کے لیے نہ اداروں میں سننے والا موجود ہے اور نہ معاشرے میں سنبھالنے والا۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے میں محض معاشرتی جمود کہنا کافی نہیں سمجھتا؛ یہ اجتماعی زوال کی پیش خیمہ گھنٹی ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب افراد و معاشرے اندر سے ٹوٹنے لگیں تو قومیں باہر سے بظاہر قائم رہ کر بھی اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ انفرادی خود کُشیاں اگر ایک مستقل رجحان کی صورت اختیار کر لیں تو وہ بالآخر قوموں کی اجتماعی خود کُشی پر منتج ہوتی ہیں، جس کی مثال چند دن پہلے ہی دنیا میں ہمارے سامنے آ چکی ہے۔
یاد رکھیں یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور کثیرالجہتی مسئلہ ہے۔ خودکُشی کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی؛ عموماً یہ نفسیاتی، سماجی، معاشی اور فکری عوامل کے باہمی دباؤ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ خودکُشی کی اہم وجوہات جن کی طرف ہم سب کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
نفسیاتی عوامل : شدید ڈپریشن، اضطراب اور احساسِ بے قدری، طویل ذہنی دباؤ، تنہائی، لاچارگی اور امید کے خاتمے کا احساس، صدمہ، ناکامی یا مسلسل تحقیر! یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جہاں فرد کو مستقبل بند دروازہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
معاشی عوامل: یہ بہت ہی قابلِ توجہ ہے اسی کی وجہ سے اصل مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بے روزگاری یا معاشی عدمِ تحفظ، قرض، غربت یا خاندان کی کفالت کا شدید دباؤ، تعلیم کے بعد روزگار نہ ملنے کی مایوسی شامل ہیں۔ یہ عوامل خاص طور پر نوجوانوں میں خود کو ناکام سمجھنے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔
سماجی عوامل: خاندانی ٹوٹ پھوٹ، گھریلو تشدد یا عدم توجہی، معاشرتی ناانصافی، طبقاتی فرق اور مسلسل محرومی، عزتِ نفس پر بار بار ضرب لگنا، طعنہ و طنز کا شکار ہونا، خود کو کم تر یا عدم مسابقت کا حصہ سمجھ لینا اور پھر ادارہ جاتی بے حسی جہاں شکایت سننے والا کوئی نہ ہو بلکہ آپ کے محافظ ہی آپ کے درپے ہوں۔
فکری و اقداری بحران : زندگی کے مقصد کا گم ہو جانا یا بے بسی کا شکار ہو جانا، اخلاقی و روحانی خلا، مذہبی یا فکری تعلیم کا رسمی ہونا، عملی سہارا نہ بن پانا، کامیابی کو صرف دولت یا رتبے سے جوڑ دینا۔ یہاں زندگی معنی کھو بیٹھتی ہے، محض بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
تعلیمی دباؤ : نمبروں، مقابلے اور مستقبل کے خوف کا حد سے بڑھ جانا، والدین اور معاشرے کی غیر حقیقت پسندانہ توقعات اور ناکامی کو “زندگی کا خاتمہ” سمجھنے کا رجحان جڑ پکڑنے لگا ہو۔
سماجی تقلید اور ماحول: تماش بین معاشرہ، سوشل میڈیا پر ایک ہی خودکُشی کے واقعے کو دس دس بار الک الگ بندوں کا دوہرانا اور ذکر کرنا، مایوسی کے بیانیے کا عام ہو جانا، فرد کا یہ گمان کہ وہ اکیلا نہیں، سب یہی کر رہے ہیں۔ یہی وہ خطرناک مقام ہے جہاں ایک سانحہ رجحان بننے لگتا ہے۔
اگر بحث کو سمیٹیں تو خودکُشی عموماً کمزوری نہیں بلکہ مدد نہ ملنے، سنے نہ جانے اور امید چھن جانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ فرد کی نہیں، اکثر معاشرے اور اداروں کی ناکامی کی علامت ہوتی ہے۔
جیسا میں نے ابتدائی طور پر اپنے مرحوم و مغفور والد صاحب کی مثال دی ویسے ہی کسی قابلِ اعتماد فرد، ماہرِ نفسیات یا مقامی ہیلپ لائن کا ہونا ضروری ہے اور ان سے بات کرنا کمزوری نہیں، دانشمندی ہوتی ہے۔
اس سے پہلے کہ مایوسی کا یہ ماحول کسی سماجی روش، یا خطرناک طور پر کسی “فیشن” کی صورت اختیار کر لے، ریاست، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور معاشرے کے تمام ذمہ دار طبقات کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ مسئلے کو محض اعداد و شمار یا وقتی بیانات سے نہیں، بلکہ ٹھوس معاشی اصلاحات، ذہنی صحت کے حقیقی نظام اور اقدار کی عملی بحالی سے حل کرنا ہوگا۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، خود احتسابی کا ہے۔ اگر ہم نے آج چند خاندانوں کی وجہ سے قومی اکثریتی نوجوان ذہنوں کو امید، مقصد اور سہارا نہ دیا تو آنے والا کل ہم سب کے لیے ایک ایسے سوال کی صورت کھڑا ہوگا جس کا جواب دینا ممکن نہیں رہے گا۔
میں بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا لیکن اکثر لوگ اسے بے توجہی سے دیکھ کر آگے کسی مداری کو دیکھنے لگیں یا عشقیہ نظمیں پڑھنے لگیں گے لہذا مختصر کرکے دعا گو ہوں کہ:
اللہ تعالی ہمیں اجتماعی توبہ کی توفیق دے کر ہمیں اصلاح کی ہمت عطا کرے۔ امین۔
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔
دُعا کا طالب: محمد افراہیم بٹ۔
جنوری 6، 2026۔

![]()