Kheyal Darya

A mound of thoughts

Uncategorized

Infaq fi Sabeel Allah: One Grain, Seven Earrings and Eternal Trade Prose

انفاق فی سبیل اللہ: ایک دانہ، سات بالیاں اور ابدی تجارت

کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ نے اس طرح وضع فرمایا ہے کہ یہاں “بظاہر چھوٹی چیزیں ہی بڑا فرق پیدا کرتی ہیں”۔ جس طرح ایک ننھا سا بیج زمین کی گہرائیوں میں جا کر ایک تناور درخت یا اناج سے بھری بالیوں کا پیش خیمہ بنتا ہے، بالکل اسی طرح انسان کا اخلاص کے ساتھ دیا گیا ایک درہم یا ایک لقمہ، اللہ کے ہاں اجر و ثواب کا ایک سمندر بن جاتا ہے۔

قرآنِ کریم کی حکیمانہ تمثیل ہے :

اللہ رب العزت نے خرچ کرنے کی فضیلت کو زراعت اور فصل کی مثال سے واضح فرمایا ہے تاکہ انسانی عقل اس کی وسعت کو سمجھ سکے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّة ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاء ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيم

ترجمہ: “جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایک دانے کی مانند ہے جس نے سات بالیاں اگائیں، ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے (ان کے اعمال کی) جزا دوگنا کرتا ہے۔ اور اللہ وسعت والا اور علم والا ہے۔”

(سورہ البقرہ: 261)

سو اللہ کی راہ میں دینا دراصل “کمی” نہیں بلکہ “اضافہ” ہے۔ ایک دانہ جب زمین میں ڈالا جاتا ہے تو وہ سات سو گنا ہو کر لوٹتا ہے، اسی طرح صدقہ دنیا میں برکت اور آخرت میں عظیم ذخیرہ بن کر ملتا ہے۔

صدقہ کی حقیقت کے بارے میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی اور ارشادات کے ذریعے صدقہ و خیرات کی وہ اہمیت بیان فرمائی جو انسانی زندگی کو ہر قسم کے خوف اور تنگی سے آزاد کر دیتی ہے۔

مال کی حفاظت:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَال (صحیح مسلم)

ترجمہ: “صدقہ دینے سے مال میں کبھی کمی نہیں ہوتی۔”

جہنم سے ڈھال:اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَة (صحیح بخاری)

ترجمہ: “آگ (جہنم) سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔”

سایہ قیامت:كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاس (مسند احمد)

ترجمہ: “ہر آدمی قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔”

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان آیات اور احادیث کو صرف سنا نہیں بلکہ اپنی زندگیوں میں نافذ کر کے دکھایا۔

1. حضرت ابوالدحداحؓ کا اللہ کے ساتھ عظیم سودا

جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: “کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے؟” تو حضرت ابوالدحداحؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! میرا چھ سو کھجور کے درختوں والا باغ اللہ کے لیے صدقہ ہے”۔ پھر وہ باغ میں گئے جہاں ان کی بیوی اور بچے موجود تھے، انہوں نے باہر سے ہی آواز دی: “اے ام دحداح! باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو بیچ دیا ہے”۔ ان کی اہلیہ نے خوشی سے جواب دیا: “آپ نے بڑا نفع بخش سودا کیا ہے!”۔

2. حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت (بئرِ رومہ) کا واقعہ

جب مدینہ میں پانی کی قلت ہوئی اور ایک یہودی اپنا کنواں مہنگے داموں بیچتا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے جنت کی بشارت دی اس شخص کے لیے جو اسے خرید کر وقف کر دے۔ حضرت عثمانؓ نے اسے خریدا اور مسلمانوں کے لیے عام کر دیا۔ اسی طرح غزوہ تبوک کے موقع پر آپؓ کا مال خرچ کرنا رہتی دنیا تک سخاوت کی مثال بن گیا۔

یہاں تائیدی و مثبت نقطہ نظر واضع کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ

موجودہ دور میں، جہاں مادہ پرستی کا غلبہ ہے، یہ قرآنی فلسفہ ہمیں ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ زراعت کی مثال ہمیں “صبر” اور “امید” سکھاتی ہے۔ کسان بیج ڈال کر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اسی طرح صاحبِ ایمان اپنا مال ضرورت مندوں پر خرچ کر کے اللہ کی رحمت کا منتظر رہتا ہے۔

یہ “سنابل” (بالیاں) محض اناج نہیں، بلکہ یہ پیار، ہمدردی، اور انسانیت کی وہ فصل ہے جو معاشرے سے غربت اور نفرت کا خاتمہ کرتی ہے۔ العین کی سرزمین ہو یا دنیا کا کوئی بھی کونہ، جب انسان “دانے سے سات سو دانے” بننے کے الٰہی قانون پر یقین کر لیتا ہے، تو اسے کبھی تنگی کا خوف نہیں رہتا۔

یاد رکھیں کہ اللہ کی راہ میں دیا گیا مال ضائع نہیں ہوتا، بلکہ وہ “سنبلہ” (بالی) کی طرح نشوونما پاتا رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم

بھی اپنی زندگیوں میں انفاق کو شامل کریں، کیونکہ یہی وہ ابدی تجارت ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔

اللہ تعالی ہمیں انفاق فی سبیل اللہ کی توفیق دے۔ آمین۔

۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد افراہیم بٹ۔

Translated into English and Recorded…..

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *