Kheyal Darya

A mound of thoughts

Thoughts and Reflections کہانی

زندگی کا فلسفہ ، ستر و قبر

قسط نمبر 49/1

حدیث مبارکہ میں ہے:

من ستر مسلمًا ستره الله في الدنيا والآخرة

جو کسی مسلمان کا عیب چھپاتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔

(صحیح مسلم)

چند دن پہلے نمازِ جنازہ میں شرکت کا موقع ملا۔ اس موقع پر میں نے ایک بار پھر سوچا کہ موت اور قبر ہماری زندگی کے کتنے اہم پہلو ہیں، جنہیں اکثر ہم نظرانداز کر دیتے ہیں۔

میں عموماً بچوں کو بھی ساتھ لے کر قبرستان جاتا ہوں تاکہ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں جو ہر جاندار کے لیے مقدر ہے۔ تہواروں پر خصوصی طور پر قبرستان جانا ہمارے دلوں میں دنیا کی حقیقت کا شعور پیدا کرتا ہے۔

جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، قبرستانوں کا رقبہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں کا قبرستان بھی سالوں میں میلوں تک پھیل گیا ہے۔ قبرستان کا منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخری منزل قبر ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں نے یہاں کے تدفین کے طریقہ کار کو دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اس عمل کے بارے میں جان سکیں، اور ساتھ ہی پاکستان کے تجربات بھی سانجھے کر سکوں۔

یہاں جب بیمار یا چلتا پھرتا انسان “ فلاں کی باقیات” یا Remains of …….! ہو جاتا ہے یعنی جب کوئی انسان وفات پا جاتا ہے تو سب سے پہلے فوتیدگی کا سرکاری اعلان اور تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے بعد معمولی سی فیس کے بعد تدفین کے لئے میت کو غسل دیا جاتا ہے۔ مردہ کو غسل دینے میں گھر کے افراد شامل ہو سکتے ہیں، اور عورت کی صورت میں یہ کام محرم عورتیں انجام دیتی ہیں۔ اس عمل میں سرکاری طور پر تربیت یافتہ افراد بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ غسل کے بعد میت کو کفن پہنایا جاتا ہے، اور اگلی نماز کے ساتھ ہی جنازے کا انتظام کیا جاتا ہے، جہاں ہر قوم، نسل، اور رنگ کے کلمہ گو افراد بلا تفریق شرکت کرتے ہیں۔

میت کو مکمل احترام دیا جاتا ہے۔ نمازِ جنازہ کے بعد مرد ہونے کی صورت میں میت کا آخری دیدار کرایا جاتا ہے، بالکل خاموشی سواۓ شہادت اور تکبیر کی صدا کے! سب سوگواران اور لواحقین سے اظہارِ افسوس اور صبر کی دعا کرتے ہیں۔ اس مرحلے میں بھی کوئی تفریق نہیں ہوتی سب کلمۂ گو جمع ہوتے ہیں۔ اور پھر اسے ایمبولینس کے ذریعے قبرستان لے جایا جاتا ہے۔ سب حاضرین میت کو کندھا دیتے ہیں، اور خاموشی کے عالم میں دعائیں کی جاتی ہیں۔ پھر ایک اجتماعی دُعا کے بعد مقامی افراد کی میت کو قریبی قبرستان لے جایا جاتا ہے، جبکہ غیر مقامی افراد کی میت کو ان کے ملک روانہ کیا جاتا ہے۔

اسلام موت اور قبر کو محض ایک انجام نہیں بلکہ ایک اہم سبق اور آخرت کی یاد دہانی کے طور پر دیکھتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

كل نفس ذائقة الموت

(ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے)

[سورہ آل عمران: 185]

موت کے بعد قبر کا مرحلہ انسان کی آخرت کی تیاری کا آغاز ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے:

“قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر انسان اس میں کامیاب ہوگیا تو آگے کے مراحل آسان ہوں گے، اور اگر ناکام ہوا تو آگے کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔”

(ترمذی)

اسی تناظر میں اپنے گاؤں سعیلہ کے نابینا حافظ فضل کریم رحمہ اللہ کے ساتھ میرا کالج کے دنوں میں خاصا وقت گزرتا تھا کیونکہ ان کی حکمت کی خط و کتابت اندرون و بیرون ملک میں کیا کرتا تھا تو مجھے روزانہ کچھ وقت میسر ہوتا جس میں میں ان سے علم حاصل کرتا، انہوں نے پاکستان بنتے دیکھا تھا کبھی کبھی نقشہ سوچ کر مجھ سے تصدیق کراتے اور واقعات بتاتے!

نابینا ہونے کے بعد بہت سارے لوگ اُن سے آنکھوں ک سُرمہ خریدتے تھے اور جہلم بازار وں میں وہ صدا لگا کر سُرمہ اور دوائیں و کُشتہ جات بھی بیچتے اور ساتھ اپنے بناۓ ہوۓ خبروں پر اشعار خاص طور پر خاندانی/معاشرتی موضوعات کو قصہ کی کتابت کرا کر بھی بیچتے تھے۔ پنجابی شاعری کھنک دار آواز ! آنکھوں والوں کو سُرمہ بیچتے اور رمضان میں سوۓ ہوؤں کو سحری کے لئے جگایا کرتے!!!

میں نے ایک دفعہ کسی کے فوت ہونے کے حوالے سے ہونے والے اعلان پر دُعا پڑھنے کے بعد پوچھا کہ موت اور قبر کے بارے میں بتائیں۔

بتانے لگے اگر انسان دوسرے کا دُنیا میں کسی کا پردہ رکھے تو اللہ اس کا بھی پردہ رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔ پھر انہوان نے ایک واقعہ سُنایا کہ جب سراۓ عالمگیر کی نہر کھودنا شروع ہوئی تو راستے میں ایک پُرانا قبرستان بھی آ گیا۔ سارا قبرستان مسمار کر دیا گیا مگر وہاں سے ایک عورت کی سلامت تروتازہ ، تازہ کفن میں لپٹی لاش ملی۔ سب حیران تھے کہ یہ لاش کس کی تھی۔ پھر اردگرد کے دیہات سے لوگوں کو جمع کرکے پتہ کروایا گیا تو ایک نہایت ہی ضحیف بزرگ جو اس وقت سو سال سے زیادہ عمر کے تھے۔ گھر میں تذکرہ ہوا تو وہ بھی اس میت کو دیکھنے پر مُصر تھے، نظر کمزور تھی مگر وہ کسی یقین کی بنیاد پر مسلسل رُو رہے تھے! قبر ساٹھ سال پرانی اور کچی ہونے کی وجہ سے کسی کو سمجھ نہ آئی! جب ان بزرگ کو وہاں لایا گیا تو وہ دُور سے روتے ہوۓ سب کو بتا رہے تھے کہ اس جگہ پر اُن کی بیوی کی قبر تھی ۔ پھر اس قبر پر پہنچ کر انہوں نے تصدیق کر دی کہ یہ ان کی بیوی کی ہی قبر تھی۔ جسے بعد میں دوسرے قبرستان منتقل کیا گیا ۔ لیکن بڑرگ نے سب کو مخاطب ہو کر اس میت پر اللہ کی رحمت کی وجہ بھی بتائی کہ یاد رکھو !!!

“جو دوسروں کا پردہ رکھتا ہے، اللہ اس کا پردہ رکھتا ہے۔”

پھر انہوں نے چہرے کا دیدار کرتے کمزور بینائی کے باوجود روۓ جا رہے تھے اور کہتے جاتے کہ دیکھنا ، اللہ نے تمھیں میری پردہ پوشی کا کتنا صلہ دیا ہے! بے شک قبر میں عزت یا رسوائی ہمارے اعمال پر منحصر ہے۔ اللہ کی رحمت ان پر سایہ کرتی ہے جو دنیا میں دوسروں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔

ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ، بزرگ کہتے جا رہے تھے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی ایسے گزاریں کہ موت کے بعد ہماری قبر جنت کے باغات میں سے ایک باغ بن جائے، نہ کہ جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔

پھر انہوں نے سبق دینے کے لئے اپنی بیوی کی نیکی کا زکر کرتے ہوۓ بتایا کہ جب اُن کی شادی ہوئی تو۔۔۔۔۔۔جاری ہے…

شکریہ۔۔۔۔۔

دعاؤں کا طلبگار:

محمد افراہیم بٹ، الامارات

7/2/2025

 

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *