انسان کا فخر اور انجام R… English
انسان کا فخر اور انجام انسان،ساری عمر اپنے ہونے پر فخر کرتا ہے،انا کے محل بناتا ہے،نام کے مینار کھڑے کرتا ہے،وجود کی عظمت پر ناز کرتا ہے۔ مگر لمحۂ آخر آتے ہی—وہی وجودلوگوں کو بوجھ لگنے لگتا ہے،وہ اسے…
![]()
معاشرتی جمود: ایک خاموش اجتماعی بحران
معاشرتی جمود: ایک خاموش اجتماعی بحران پردیس کے صحرائی ماحول میں برسوں گاڑی چلانے کے بعد جب میں پاکستان آیا تو والدِ مرحوم کے ساتھ کشمیر میں رشتہ داروں سے ملنے کا سفر کیا۔ میں خود ڈرائیونگ کر رہا تھا،…
![]()
نظم: زنجیروں کے دیس میں
نظم: زنجیروں کے دیس میں جلے ہیں چراغوں کے نیچے ضمیرخریدی گئی ہے صداقت کی زنجیر یہاں عدل بہرا، عدالت خموشسنے کون فریاد، ہے کون روش؟ یہاں قحط ہے رزق کا، پیٹ خالیمگر فخر پوشوں پہ ہے ماہ و سالی…
![]()
Infaq fi Sabeel Allah: One Grain, Seven Earrings and Eternal Trade Prose
انفاق فی سبیل اللہ: ایک دانہ، سات بالیاں اور ابدی تجارت کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ نے اس طرح وضع فرمایا ہے کہ یہاں “بظاہر چھوٹی چیزیں ہی بڑا فرق پیدا کرتی ہیں”۔ جس طرح ایک ننھا سا بیج زمین…
![]()
شہد کی مکھی The Honeybee
شہد کی مکھی: محنت، حکمت اور ایمان کی نشانی شہد کی مکھی ایک ایسا ننھا سا جاندار ہے جو بظاہر کمزور دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی زندگی، اس کی محنت، اور اس کی تخلیق کردہ دنیا حیرت انگیز حقائق…
![]()
مُحَبَّت: مَرْد كے لِیے شُغل نَہِیں—ذِمَّہ داری ہے، اور عَوْرَت كے لِیے صِرْف زِںدگی نَہِیں—وَقَار اور تَحَفُّظ ہے
مُحَبَّت: مَرْد كے لِیے شُغل نَہِیں—ذِمَّہ داری ہے، اور عَوْرَت كے لِیے صِرْف زِںدگی نَہِیں—وَقَار اور تَحَفُّظ ہے مُحَبَّت كو اَكثَر ايک جَذباتِی مَعاملَہ سَمَجْھا جاتا ہے، مَگر حَقِیقَت يہ ہے كہ يہ اِنسانِی نَفسِیّات، سَماجِیّات، تَعَلُّقات اور شَخْصِیَّت سازی…
![]()
نعمتِ نظر، ادراکِ دل اور حقیقت کو دیکھنے کا ہنر
آنکھوں کے بالکل سامنے نعمتِ نظر، ادراکِ دل اور حقیقت کو دیکھنے کا ہنر بچپن میں دوسری جماعت کا ایک مختصر سا جملہ تھا: “آنکھوں والو، آنکھوں کی قدر کرو! آنکھیں بڑی نعمت ہیں!” اُس وقت یہ ایک سادہ سی…
![]()
چشمہ (دل کی بیداری)
چشمہ (دل کی بیداری) دل کے آپریشن کے بعد میری دنیا بدل گئی! مگر شاید دنیا نہیں بدلی، بس میری آنکھ کا شیشہ بدل گیا تھا۔ اب جب میں چشمہ اتارتا ہوں تو دیواریں نرم لگتی ہیں، روشنی کے ذرات…
![]()
تم مجھے یاد کرو گے
تم مجھے یاد کرو گے کیونکہ میں تمہاری محبوبہ نہیں تھی؛تمہارے کئی محبوب ہیںاور میں تمہاری دوست نہیں تھی؛تمہارے کئی دوست ہیں۔ پھر جاننا چاہتے ہو، میں کون تھی؟،میں تمہارے لیے ماں تھی،تمہارے لیے آغوش تھیتمہیں وہ پیار دوبارہ نہیں ملے…
![]()