اور معاشرتی تبدیلی(انقلاب آنے کی وجوہات)
قسط 7 /43
اب جب ہم معاشرتی تبدیلی کو سمجھنے کے لئے بہت سارے عقل و فکر کے حامل لوگوں کے نظریات کا مطالعہ کر رہے ہیں تو یاد رکھیں ان لوگوں نے انسانوں کی مختلف معاشروں میں مشکلات سے اور کٹھن زندگیاں دیکھ کر ہی کچھ کہا ورنہ بقول قرآن سورۃ البقرۃ میں بہت سارے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ نہ حق کو پہچانتے اور نہ ہی اس کی طرف لوٹتے ہیں،
صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُـمْ لَا يَرْجِعُوْنَ (18)
بہرے گونگے اندھے ہیں سو وہ نہیں لوٹیں گے۔
اگر دُنیا میں ان اہل الخیر لوگوں کی زندگی کے حالات پڑھیں تو پتہ چلتا ہے انہوں نے اپنے تائیں پوری کوشش کی لیکن زمانے کے استحصالی، طوغوتی، فرعونی اور جابرین نے انہیں وہ معاشرہ بننے نہ دیا بلکہ انہیں تیاہ و بے گھر گیا۔ تاریخ گواہ ہے نیکی اور نیک لوگ ہمیشہ رہتے ہیں اور شیطان کے پیرو کار آخر کار عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔
کارل مارکس (Karl Marx) کے نام سے ہر کوئی واقف ہو گا کیونکہ اس نے بھی طبقاتی جدوجہد اور معاشرتی تبدیلی کا اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔
کارل مارکس (1818-1883) ایک جرمن فلسفی، ماہرِ معاشیات، اور انقلابی مفکر تھے جنہوں نے معاشرتی تبدیلی اور انقلاب کے بارے میں گہرے نظریات پیش کیے۔
ان کی تصانیف “داس کیپیٹل” (Das Kapital) اور “کمیونسٹ مینیفیسٹو” (Communist Manifesto) میں انہوں نے طبقاتی جدوجہد کو معاشرتی تبدیلی کا بنیادی عنصر قرار دیا۔ مارکس کے نظریات نے دنیا بھر میں سیاسی، سماجی، اور معاشی نظاموں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
مارکس کے مطابق، انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ ہر معاشرے میں دو بنیادی طبقات ہوتے ہیں:
1. بورژوازی (Bourgeoisie): سرمایہ دار طبقہ جو پیداواری ذرائع کا مالک ہوتا ہے۔
2. پرولتاریہ (Proletariat): مزدور طبقہ جو اپنی محنت بیچ کر زندگی گزارتا ہے۔
مارکس نے کہا کہ یہ دونوں طبقات مستقل تضاد میں رہتے ہیں، کیونکہ سرمایہ دار طبقہ منافع کمانے کے لیے مزدوروں کا استحصال کرتا ہے۔ یہ طبقاتی تضاد معاشرتی تبدیلی اور بالآخر انقلاب کا باعث بنتا ہے۔
مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام پر شدید تنقید کی اور اس کے مندرجہ ذیل پہلوؤں کو اجاگر کیا:
• سرمایہ دار مزدور کا استحصال کرتے اس کی محنت سے اضافی قدر (Surplus Value) حاصل کرتے ہیں، جو ان کے منافع کا ذریعہ بنتی ہے۔
• مزدور اپنی محنت کے ثمرات سے بیگانہ ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی پیدا کردہ اشیاء پر کنٹرول نہیں رکھتے۔
• سرمایہ داری میں زائد پیداوار کے بحران پیدا ہوتے ہیں، جہاں اشیاء کی پیداوار تو زیادہ ہوتی ہے لیکن خریدنے کی استطاعت کم ہوتی ہے، جس سے معاشی بحران جنم لیتے ہیں۔
مارکس نے ایک ایسے سوشلسٹ نظام کی وکالت کی جہاں:
• پیداواری ذرائع پر اجتماعی کنٹرول اور ملکیت ہو تاکہ استحصال کا خاتمہ ہو۔
•تمام طبقات کا خاتمہ ہو اور ایک مساوی معاشرہ قائم ہو۔
اس کے مطابق معیشت کی منصوبہ بندی اجتماعی ضروریات کے مطابق کی جائے، نہ کہ منافع کے لیے۔
مارکس کے مطابق، معاشرتی انقلاب اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب:
• مزدور طبقہ بیدار ہوتا ہے اور اپنی قدر جان جات ہے، یوں “ پرولتاریہ” اپنی حالتِ زار کو سمجھتا ہے اور منظم ہوتا ہے۔
• طبقاتی تضاد ، اونچ نیچ ، نام نہاد “اشرافیہ/بدمعاشیہ” حکمران و غلام کا فرق انتہا کو پہنچتا ہے یعنی استحصال اور ناانصافی اپنی حدوں کو چھو لیتی ہے۔
• ایسے میں انقلابی جدوجہد شروع ہو جاتی ہے جب مزدور طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور ایک نیا سوشلسٹ (اجتماعی) نظام قائم کرتا ہے۔
کارل مارکس نے دراصل طبقاتی جدوجہد کو معاشرتی تبدیلی کا مرکزی عنصر قرار دیا اور سرمایہ دارانہ نظام کی تنقید کرتے ہوئے سوشلسٹ (اجتماعی) نظام کی وکالت کی۔ ان کے نظریات نے دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں اور معاشرتی تبدیلیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
شکریہ۔۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ – الامارات
5/2/2025
![]()