Kheyal Darya

A mound of thoughts

growth

URDU

زندگی کا فلسفہ اور ریسٹورینٹ(تمثیل)

قسط 50/1 زندگی واقعی ایک ریسٹورینٹ کی طرح ہے، جہاں ہر شخص اپنی حیثیت، ذائقے، اور ضرورت کے مطابق آرڈر دیتا ہے۔ مگر یہ ریسٹورینٹ صرف کھانے کے انتخاب تک محدود نہیں۔ یہ ہمیں انسانی فطرت، حالات، اور معاشرتی رویوں…

Loading

Poetry

میری کہانی

ماں نے مجھے بولنا سکھایا تھا پھر چلنا، اور زمین پر پہلا حرف لکھنا۔ میں نے وہ حرف اٹھایا، لفظوں میں پرویا، اور بولتا گیا۔ پردیس کی راہوں میں، میں رکا نہیں، دوڑتا رہا۔ تختیاں لکھتا رہا، اور جب پڑھنا…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ اور گناہوں میں آسانی

‎قسط 66 ‎حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے “جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔” آپ رضى الله تعالى کا یہ جملہ…

Loading

Poem

اُداس نسلوں کی خاموش صدا

خیال سمندروں میں ڈوبتے نوجوانوں کے متعلق انٹرویوز سُننے کے بعد اُن کی آخری صداؤں کا منظر اُداس نسلوں کی خاموش صدا فریب کی گرد میں پلتی رہیں یہ اُداس نسلیں، جو جلتی رہیں پاگل خانے کی خامشی میں قید…

Loading

Poetry

اچھی نہیں

“بے خودی اچھی، خودی اچھی نہیں” گر بڑھے حد سے، رہی اچھی نہیں جو گھڑی سچ سے ہٹا دے آدمی ایسی کوئی بھی گھڑی اچھی نہیں آئنہ گر عکس میں دھوکا بھرے ایسی کوئی بھی ہنسی اچھی نہیں ہے اگر…

Loading

Poem

نثری نظم خودی

خودی ایک آگ ہے، جسے بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ روشنی ہے، جو کبھی ماند نہیں پڑتی۔ یہ ایک خواب ہے، جسے تعبیر کی قید میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ یہ وہ جام ہے، جو تشنگی تو دیتا ہے،…

Loading

Poetry

سبیل

چلو گے تو نکلے گی سبیل دیکھ آیا ہوں  رہ زندگی میں کئی سنگِ میل دیکھ آیا ہوں  نگہ بلند ہے تُو بھی کَمنّد ساتھ رکھ افری  اُٹھا دی جاتی ہے رہ میں فصیل دیکھ آیا ہوں  تو میرا مشکل…

Loading

Poetry

رمز

اک رمز دباۓ رکھتے ہیں  اک جوت جلاۓ رکھتے ہیں  سب دل ملاتے رہتے ہیں  ہم درد بھلاۓ رکھتے ہیں  دلِ رنجور اس کی خاطر  ہم غیر سے بناۓ رکھتے ہیں  تم لوٹ آؤ شاید افری  نگہ درپہ جماۓ رکھتے…

Loading

Poetry

محدب عدسے

پردیس بھی ہے ایک غریب خانہ ہر کوئی سُناتا ہے اپنا ہی فسانہ محدب عدسوں کا لباس پہنتے ہیں لوگ جب بھی گھر سے نکلتے ہیں شکلیں بدلتی ، شاہکار بدلتے ہیں مڑ کر دیکھنا لوگ کئی بار بدلتے ہیں…

Loading

Poetry

سُرمہ

افری چلو سرِ راہ دھرنا دے کر شہرِ بے مہر میں سُرمہ بیچتے ہیں اپنے کئے پہ کوئی نادم بھی نہیں بے ضمیر مرتبے دیکھتے ہیں پوچھا تحریریں پڑھ کر دیواروں کی لوگ کیا شہر میں ایسا ہی سوچتے ہیں…

Loading