حکایت 8 (ناقابل جواب سلام)
ناقابل جواب سلام شام کا وقت تھا۔ غروب آفتاب کی سنہری کرنیں دیواروں پر بکھر رہی تھیں اور ہلکی ہلکی شام کی ہوائیں فضا کو سہلا رہی تھیں۔ چھوٹا آدم اپنے والد کے ہمراہ کچھ خریداری کے لیے نکلا۔ جب…
![]()
آوارہ خیال
آوارہ خیال میں نے کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو عورت کی توہین میں لذت پاتا ہو، مگر یہ کہ وہ خود مردوں کے درمیان ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ اِفری
![]()
سوچنے کی بات
سوچنے کی بات سمندر کا اصول ہے کہ وہ مچھلی جو اپنا منہ بند رکھے، کبھی تیر نہیں سکتی۔یہی حال زندگی کا ہے؛ ماں بھی بچے کے رونے پر ہی دودھ دیتی ہے۔ پھر ہم کیوں یہ گمان کرتے ہیں…
![]()
ہم کہاں سے کہاں آ گئے
ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہم سب نے زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔ برف دو روپے کی آتی کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا کبھی ہمسائے سے برف…
![]()
اُداس نسلوں کی خاموش صدا
خیال سمندروں میں ڈوبتے نوجوانوں کے متعلق انٹرویوز سُننے کے بعد اُن کی آخری صداؤں کا منظر اُداس نسلوں کی خاموش صدا فریب کی گرد میں پلتی رہیں یہ اُداس نسلیں، جو جلتی رہیں پاگل خانے کی خامشی میں قید…
![]()
Sufi Poetry (1)
Begin with thanks to God, the beloved’s face unveiled Thy sweet mouth, O beloved, strength in me impaled Upon paths of travel, I arrived, not fatigued A servant to that realm, soul’s purity retrieved Coil by coil, if I cast…
![]()