ہم کہاں سے کہاں آ گئے
ہم سب نے
زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی
جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔
برف دو روپے کی آتی
کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا
کبھی ہمسائے سے برف
کبھی سالن مانگنا بھی
شرمندگی کی بات نہ تھی۔
ہم نے وہ دن بھی دیکھے
جب عید پر نئے جوتے
ساری خوشی کا مرکز ہوتے
اور ٹی وی دیکھنا
اجتماعی دعا کی طرح ہوتا۔
اک فون نمبر
جو پورے محلے کا پتہ ہوتا
اک غسل خانہ
جس کا دروآازآہ ہر وقت بجتا رہتا
اک سائیکل
جسے چمکا کر خوابوں پر سوار ہوا جاتا…
ہم نے پراٹھے پر اچار رکھ کر
تعلیم حاصل کی
روٹی کپڑے کے پونے میں باندھ کر
دفتر لے جائی گئی
اور اینٹینا ٹھیک کرنا
اک فن سمجھا جاتا تھا۔
اور آج…؟
ہر کمرے میں اے سی
ہر بچے کے پاس فون
ہر خواہش کے پیچھے
دوڑتی دنیا۔
مگر سکون…؟
کہیں کھو گیا ہے۔
وہ تسکین، جو
برف کی ٹھنڈک سے دل میں اترتی تھی
اب قیمتی جوتوں سے بھی نہیں آتی۔
کیوں؟
کیونکہ ہم بھول گئے…
شکر۔
ہم ناشکرے ہو گئے ہیں
ہمیں ہر نعمت کم لگتی ہے
ہر چیز میں کمی دکھتی ہے
اور یہی ہے وہ زہر —
ڈس سیٹس فیکشن۔
ہم نے ماننا چھوڑ دیا
کہ اللہ نے ہمیں
والدین سے بہتر زندگی دی
ہم نے یاد رکھنا چھوڑ دیا
کہ قناعت، سب سے بڑا خزانہ ہے۔
شکر وہ وٹامن ہے
جو روح کو زندہ رکھتا ہے
اور جو شکر کرنا جان لے
وہی زندگی کو سمجھتا ہے۔
آؤ
آج ایک لمحے کو رک کر سوچیں…
ہم کہاں سے چلے تھے؟
اور کہاں پہنچ گئے؟
بس یہی شعور
شکر کی طرف لوٹنے کا راستہ ہے۔
ورنہ یاد رکھو…
دولت، شہرت، ترقی —
سب کچھ ہو سکتا ہے
مگر
اگر شکر نہ ہو…
تو تم ایک ادھوری زندگی جی کر
چلے جاؤ گے۔
![]()

