ناقابل جواب سلام
شام کا وقت تھا۔ غروب آفتاب کی سنہری کرنیں دیواروں پر بکھر رہی تھیں اور ہلکی ہلکی شام کی ہوائیں فضا کو سہلا رہی تھیں۔ چھوٹا آدم اپنے والد کے ہمراہ کچھ خریداری کے لیے نکلا۔
جب وہ پرانے ہمسائے کے گھر کے پاس سے گزرا، آدم نے معصومیت سے اپنی آواز بلند کی:
“السلام علیکم، چچا!”
لیکن دروازہ بند رہا اور کوئی جواب نہ آیا۔
آدم نے والد کا ہاتھ تھامتے ہوئے فکرمند ہو کر پوچھا:
“ابو، وہ کیوں جواب نہیں دے رہے؟ کیا میں نے کوئی غلطی کی؟ کیا وہ ناراض ہیں؟”
والد نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، اور کنارے پر پڑے ایک ٹہلے پر آنکھوں میں محبت کے جذبے لیے بیٹھے آدم کی طرف دیکھا:
“بیٹا، شاید انہوں نے تمہاری بات نہ سنی ہو، یا دل بھاری ہو۔ لوگ کبھی کبھار مشکل حالات سے گزرتے ہیں اور کچھ نہیں کہتے۔ اور یاد رکھو، ہمسائے کا مقام اسلام میں بہت بلند ہے۔”
پھر والد نے آدم کو نبی اکرم ﷺ کی تعلیم یاد دلائی:
“مسلمانوں کے درمیان سلام کے اعلان میں محبت اور قربت پیدا کرنے کی طاقت ہے۔ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ‘السلام’ ہے۔ تمہارے کہے گئے سلام سے دل نرم ہوتا ہے، رشتہ مضبوط ہوتا ہے اور امید پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘تم ایمان والے نہیں ہو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ اور محبت کا سب سے پہلا ذریعہ یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کو سلام کرو۔’ [مسلم]”
آدم حیرت سے بولا:
“اگر وہ مجھے جواب نہ بھی دیں، تو کیا میں پھر بھی سلام کہوں؟”
والد نے اپنے بیٹے کا ہاتھ تھام کر کہا:
“بیٹا، ہمسائے کا ذکر قرآن میں آیا ہے: ‘{اور ہمسائے کو قریب ترین سمجھو}’۔ ہمسائے کے ساتھ بھلائی کرو، ان کے لیے تحفہ یا صدقہ کرو۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام ہمسائے کے بارے میں اتنی نصیحت کرتے رہے کہ میں سوچتا رہا کہ اب شاید ہمسائے کا حصہ وارث بنایا جائے۔”
پھر والد نے سانس لیتے ہوئے کہا:
“صدیق اکبر ﷺ کے زمانے میں ہمسائے ایک دوسرے کے ساتھ کھانے بانٹتے، پریشانی میں سہارا دیتے اور خوشحالی میں خوش ہوتے۔ اگر کبھی ہمسائے سے غلطی ہو جائے، تو ہم صبر اور رحمت سے جواب دیتے ہیں، انتقام سے نہیں۔”
آدم نے نرم آواز میں کہا:
“تو… اگر وہ مجھے نظر انداز کریں، تب بھی میں سلام کہوں؟”
والد نے فخر سے سر ہلاتے ہوئے کہا:
“بالکل، بیٹا۔ یہ نبی ﷺ کے زمانے کے سالوں کی روشنی ہے۔ تمہارا ہر سلام دلوں کو نرم کر سکتا ہے، ٹوٹے رشتوں کو جوڑ سکتا ہے اور تھکے دلوں میں امید جگا سکتا ہے۔”
چند قدم آگے چلتے ہوئے اچانک پیچھے سے مدھم سی آواز آئی:
“وعلیکم السلام، بیٹے…”
دروازہ دھیرے دھیرے کھلا اور آنکھوں میں آنسو لیے بوڑھا ہمسائے نے مسکرا کر کہا:
“میں سوچا کوئی میری پرواہ نہیں کرتا… معاف کرنا بیٹے، تم نے میرا دل جیت لیا”۔
تحریر : محمد افراھیم بٹ۔
![]()
