Kheyal Darya

A mound of thoughts

urdu

Poem

اذنِ سفر

اذنِ سفر شام ہونے کو ہے…اداسیوں کے موسم میں،روح کا زخمی، اداس پنچھیاپنے ماحول سے اکتا کرکبھی کبھی اذنِ سفر مانگتا ہے۔ جیسے تپتے ہوئے صحرا کا مسافربگھولوں کی دہشت سے گھبرا کر،سرابوں کے بے رحم سمندر سےکسی گھنے پیڑ…

Loading

Poetry

شعر

یہ دنیا فانی منزل ہے، یہ سوچا تھا مگر پھر بھیجو رشتے توڑ جاتے ہیں، وہ اکثر یاد آتے ہیں 5/2/2025

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ

اور معاشرتی تبدیلی(انقلاب آنے کی وجوہات) قسط 7 /43 اب جب ہم معاشرتی تبدیلی کو سمجھنے کے لئے بہت سارے عقل و فکر کے حامل لوگوں کے نظریات کا مطالعہ کر رہے ہیں تو یاد رکھیں ان لوگوں نے انسانوں…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ، ایک کہانی کی صورت

“رنگوں سے خالی دنیا” قسط 46 یہ کہانی میں نے یوٹیوب پر ایک بچے کی اس بیماری کے بعد پہلی دفعہ عینک لگانے کے بعد اپنے والدین کو دیکھ کر خوش ہوتا دیکھ کر لکھی، اس سوچ کے ساتھ کہ…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ اور اَسَاطِيرُ الْاَوَّلِينَ

(قدیم لوگوں کے قصے) قسط 43/8 جناب محمد حذیفہ صاحب نے لاھور سے لکھ بھیجا کہ میں جو معاشرتی تبدیلی اور انقلاب آنے کی وجوہات کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو اس کا حل بھی لکھوں ، سوچا سوال…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ

اور معاشرتی تبدیلی(انقلاب آنے کی وجوہات) قسط 9 /43 پچھلے کچھ دنوں سے اس موضوع پر لٹریچر کا مسلسل مطالعہ کر رہا ہوں جس میں دُنیا بھر سے بشمول مسلمان و مغربی تقریبا پچھتر فلاسفرز اور اہل دانش کو سامنے…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ اور مینڈھے لیلے لیڈرز(حکمران)

قسط 47 (ایک ویڈیو میں دو مینڈھے ٹکراتے دیکھ بیان کر دیا ہے، یاد رکھیں: “دُنیا میں ہر واقعہ ہماری راہنمائی کے لئے رونما ہوتا ہے۔ “افری) زندگی، کائنات کا سب سے پیچیدہ مگر بامعنی مظہر ہے، جو مسلسل ارتقاء…

Loading

URDU

زندگی کا فلسفہ اور گناہوں میں آسانی

‎قسط 66 ‎حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے “جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔” آپ رضى الله تعالى کا یہ جملہ…

Loading

Poetry

اچھی نہیں

“بے خودی اچھی، خودی اچھی نہیں” گر بڑھے حد سے، رہی اچھی نہیں جو گھڑی سچ سے ہٹا دے آدمی ایسی کوئی بھی گھڑی اچھی نہیں آئنہ گر عکس میں دھوکا بھرے ایسی کوئی بھی ہنسی اچھی نہیں ہے اگر…

Loading

Poem نظم

اِختِیار R

رہو راضی با رَضا کُچھ نہیں ہے اِختِیار مِیں اِک دَائِرے کا سفر چھُپَا ہے فَقَّط نوکِ پَرکَار مِیں کَشّمکَشِّ حیات سے وہاں بِھی امَاں ناں مِلی سُنا تھا بڑی راحتَیں ہیں سایَۂِ زُلفِ یار مِیں میری غُربَتّ ہی مِیرا…

Loading