Kheyal Darya

A mound of thoughts

کہانی

دو اجنبی ایک آجنبی شہر میں

چند سال ہوۓ ایک کمپنی کےلائسنس کی تجدید کرانا تھی تین دن کی چھٹی لے کر بیگ گلے میں ڈالا اور مطار اسلام آباد سے ٹیکسی پکڑ کرسیدھا امیگریشن بیورو کے سامنے سات بجے فٹ پاتھ پہ لگی ناشتے کی ریڑھی کے بینچ پہ بیٹھا تھا۔ میں پاکستان میں ویسے بھی طالب علمی کے زمانے سے غریب خوانچہ فروشوں اور تندوروں سے کھانا ان کی مدد کے خیال سے فوقیت دیتا رہا ہوں۔ پھر جو عزت اور دلی تسلی ملتی ہے اس کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ اگر کہیں پاکستان میں بڑے ریستورانوں میں کھانا ہوا بھی تو پکوان پھیکے اور بے برکت ہی نکلے۔ وہاں دکھاوے کی سروس اور سروس کرنے والے آپ کے نوالے تک گن رہے ہوتے ہیں کہ کب ختم ہو اور ان کو ٹپ ملے ۔ سب کچھ مصنوعی لگ رہا ہوتا ہے۔ گویا کھا کر دل خوش نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ کاروباری آڈے ہوتے ہیں جبکہ غریب زندگی کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کو ہی سپورٹ کرنا چاہئے ۔

انہی دنوں کا مجھے یاد ہے ہمارے گاؤں سے ایک نابینا بزرگ فضل کریم شہر میں سرمہ بیچنے اور غیر معمولی گھریلو جگھڑوں اور ناانصافی کو خبروں قصہ بنا کر چھپوا کر بڑے ترنم سے بیچتے۔ لوگوں کو آنکھوں کی نعمت کا احساس دلاتے” آنکھیں بڑی نعمت ہیں ان کی قدر کرو”۔ قصہ لے میں روہانے سے انداز میں پڑھتے اور کہتے دیکھو بیٹے نے لڑکی کی خاطر ماں کو قتل کردیا۔ بھائی نے جائیداد کے لئے بھائیوں کا قتل کر دیا ۔ فلاں دن دیکھا نہیں تھا ناحق قتل پہ آسمان بھی رو رو کر گلابی ہوا تھا۔ خدارا گھروں کو دین سے جوڑو تربیت کا احترام سیکھاؤ۔ ایک شخص جس کا قد سات فٹ سے زرا اوپر ہو گا شہر بھر میں دنداسہ اور کان کی صفائی کے لئے باریک اوزار بیچتا۔ چونکہ وہ بھیڑ میں نمایاں دکھتا تھا وہ اپنے انداز میں اونچی آواز میں “شھی” کی لمبی آواز کے لوگوں کو متوجہ کرتا اور پھر کہتا “دنداسہ منہ کھول کے ہنسنے کے لئے” پھر کان صفائی کے اوزار دیکھا کر “سماعت کے بغیر زندگی ادھوری اور بہرے کہلاؤ گے” لوگ ان وارنگز کو سن کر سرمہ، قصے، دنداسہ اور کان صفائی چھوٹی سی چمچیاں خریدتے اس ڈر سے کہ وہ بک نہ جائیں۔ اب وہ انزار کرنے والے لوگ نا پید ہو گئے! اب نہ آسمان گلابی ہوتا ہے نہ ہنستا دیکھائی دیتا ہے شاید لوگوں نے کانوں کی صفائی بھی بند کر دی ہو بظاہر تو چمکے نظر آتے ہیں لیکن ہر چمکتی چیز سونا بھی نہیں ہوتی۔ جدت زمانہ نے لوگوں کو ہی چھین لیا ہو جیسے!

خیر یہ تجربہ اپنی سیلز کی زندگی میں بہت کام آیا کیونکہ آپ کو والعصر کی صدا لگانا ہی پڑتی ہے اگر آپ نس پکڑ پاۓ ہیں تو !
ورنہ میں کھانے کی بات مکمل کروں جو یاد آ رہی ہے جہلم میں مرغی بازار کے اندرون فٹ پاتھ پہ بیٹھے بھیا کا کھانا کھا کر جس میں اوجڑی اور کلیجی، ایک بزرگ بڑے میاں کے پکوڑے ، لالہ محمد دین کے نان چھولے، نھنے کے سموسے اور پھر حافظ نور مرحوم کے مطب سے بزوری ، صندل اور دوسرےشربت ساری گرمی اور تھکاوٹ اتار دیا کرتے۔

اگرچہ لاھور کم جانا ہوتا تھا مگر ماسی نعمتے کے تندور پہ اس کے ہاتھ سے بنے سالن اسپیشلی آلو بیگن کا جو صواد؟ آج بھی دل للچاتا ہے وہ تب سے پسندیدہ ڈش ہے حالانکہ چند سالوں سے کسی نے کہنا شروع کیا کہ بلڈ پریشر میں ایسی سبزی ٹھیک نہیں مگر میں مسکرا کے کہتا ہوں شکر بھی تو ادا کرنا ہے۔ ماسی ایک سال بعد بھی دیکھ کر سلام کے جواب میں کہتی” بٹ پتر جہلم توں آۓ نے” بڑے چاؤ سے ماؤں جیسے انداز میں کھانا چُن کر دیتی اور پیسے بھی بڑے اصرار کے بعد لیتی کہتی “صدقے جاؤاں کدی کدی آندے ہو مہمانی کھایا کرو” !

اچھا ریڑھی والے نے مسافر سمجھ کر اچھا سا ناشتہ بنایا ویسے بھی میں نے اس کوخوش دلی سےایک سو کا نوٹ دے دیا تھا پھر مجھے بھی نو بجے تک متعلقہ دفتر کھلنے کا انتظار مطلوب تھا۔ بیگ کو میرے ساتھ بینچ پہ ہی جگہ مل گئی تھی اور ہم دونوں حفظ و امان میں تھے ورنہ پچھلے سال چھوٹے بھائی کے انگریزی سوٹ میں سے کسی نے پیسوں درھموں سے بھرا بٹوہ مار لیا تھا۔ ہمارا تو لاکھوں کا نقصان ہوا سو ہوا مگر جیب کترے نے پیسے نکال کر معافی کے نوٹ کے ساتھ باقی کا سامان کمال مہربانی سے کورئیر کر دیا۔ ہم سوچتے رہے شاید پڑھا لکھا بیروزگار نوجوان ہو گا پھر خیال آیا وہاں وہ اگر لاکھوں کی جیبیں کاٹتا ہو گا تو کیا ضرورت ہو گی اسے ہم جیسی غلامی کرنے! ویسے بھی تو پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے میں عادت تو ندرجہ اتم موجود ہے سواۓ چند بندگان کے سوا۔ اور تو اور چونکہ یہ دفتر اورسیز ایمپلائمنٹ کے لئے کام کرتا تھا جہاں کا ہر آدمی رشوت خور اور بے ایمان فی وجہ المسلم . اب یہاں پردیس میں ایسا کچھ نہیں ہوتا اور پھر پاکستان ہم بڑے شوق سے جاتے ہیں اور سینہ چوڑا کر کے لمبی لمبی سانسیں لے کر شکر کے ساتھ بتاتے “ماشا اللہ تازہ ہوا ہے، پاکستان کی مٹی کو خوشبو الگ ہی ہے۔” میں تو کئی بار اتر کر سجدہ کرتا یا وطن کی ترقی کی دعا بھی کرتا ہوں ۔ لیکن پاکستان پہنچ کر ہم پردیسیوں کا دھیان ان اعلانات اور لکھی تحریروں پہ نہیں جاتا جہاں “اپنے سامان کی خود زمہ داری کا احساس دلایا جاتا ہے۔ مگر کبھی کبھی پاکستان پہنچنے کے جوش اور خوشی کے نشے میں جیبیں کٹوا یا سامان گنوا بیٹھتے ہیں۔ میں نے چونکہ نابینا اور لمبے شخص کی باتوں کو زندگی میں اپنا رکھا ہے لہذا کرنسی کو جہاز اترنے سے پہلے زرا فریش ہونے کے بہانے اوٹ میں جا کر تین چار جگہ ٹھکانے لگا لیتا ہوں ۔

ناشتہ شروع ہی کیا تھا تو سامنے سےایک لمبے تڑنگے شخص عمر 65-67 کے لگ بھگ ہو گی پریشان حال گزر ہوا اب میں نےجاسوسی انداز میں اس کو تاڑنا شروع کیا تو وہ آنکھیں چار ہونے پہ تھوڑے سے چُوکنے ہو گیا کیونکہ پیدا ہونے والا اضطراب ان کے چہرے سے عیاں رہا تھا۔

وہ ایک فرلانگ کے بعد دوبارہ مڑ آۓ اب میں پاۓ کی نلی کو پلیٹ میں ٹھوک ٹھوک کر میکھ نکال رہا تھا۔ شاید انداز شریفانہ نہیں تھا مگر کن آکھیوں سے دیکھا تو اب کے وہ مجھے تاڑتے ہوۓ آ رہے تھے مردانگی کا تقاضا تو یہی ہوتا ہے کہ ایسے میں نظر نہیں چرائی جاۓ۔

میں نے جب بٹوں کی طرح چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوۓ نان کا میکھ بھرا نوالہ منہ میں ڈالا تو ان کو گھبراہٹ میں گزرتے ہوۓ دیکھا۔ میں ان کی کیفیت کو ان بکھرے بالوں اور موٹے نظر کے چشمے کے ساتھ زہنی تصویر کشی کر رہا تھا۔ وہ اب کے دوسری طرف جاکر ایک آدھ فرلانگ سے واپس ہوۓ۔ اب کے میں چاۓ کی چسکی لے رہاتھا اور کتاب بھی نکال لی تھی کہ دفاتر کھلنے تک کچھ مطالعہ ہی کر لوں گا۔

اب تو وہ نظریں ملاۓ سیدھے میری طرف آ رہے تھے میں نے سوچا انہوں کسی طرح بات کرنے کا حوصلہ کر لیا ہے گویا میں ایک سلیز مینجر کی طرح اندر ہی اندر مکالمے کی تیاری پکڑ چکا تھا۔ وہ سیدھےآ کر میرے پاس کھڑے ہوۓ! تھوڑے ساکت ہوۓ پھر وقفے کے بعد شریف انسان کی طرح مخاطب ہوۓ
“جناب آپ کافی دیر سے مجھے یوں گھور کےدیکھ رہے ہیں”۔ میں نے احتراما”اٹھ کر مصافحہ کیا اور ساتھ ہی حسب عادت مسکراۓ ہوۓ گرمجوشی سے اپنا تعارف کرایا
“جناب مجھے محمد افراہیم بٹ کہتے ہیں ! آپ کے شہر میں اجنبی ہوں ۔ یہ دفتر کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں لہذا ناشتہ کے ساتھ ارد گرد کو دیکھ رہا ہوں کہ کتنا بدل گیا۔ اسی دوران ہی انہوں نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا” بٹ صاحب میرا نام عظیم بٹ ہے” میں
نے جھٹ سے فقرہ کسا “ اچھا تو یہی وجی تھی ایک دوسرے کو یوں توجہ دلانے کی! کیونکہ ہماری نانی جو سانجھی ہوئی”۔ ہم کشمیریوں میں یہ بات محاورة بولی جاتی کہ کہیں نہ کہیں سے رشتہ نکل ہی آتا ہے۔ پھر کیا گلے مل لئے میں نےان کو پکڑ کر زبردستی ناشتہ کرنے کو بٹھا لیا مگر وہ کہنے لگے “بٹ صاحب! میں وی اس شہر دے وچ اجنی ہی ہوں”۔ میں نے قہقہہ لگا کر کہا جبھی تو میں بھی وقت سی پہلے دفتر کے سامنے بیٹھا ہوں۔

اب وہ اکتاۓ ہوۓ بولے جی میں بھی یہاں مزدور لینے آیا ہوں جبکہ مزدور بھی آٹھ بجے اس چوک پہ جمع ہوتے ہیں ! خوب نبھے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔ دو اجنبی ایک اجنبی شہر میں !

میں نے بتایا لوگوں کو دیکھ کر بعد واقعہ لکھنا چاہ رہا تھا وقت بھی تو پاس کرنا تھا اور پھر 1983 میں چاندنی چوک کیسا تھا اور اب کیسا ہو گیا ہے! کیونکہ میں کبھی یہاں کمپیوٹر پروگرامنگ کے کورس کے لئے یہاں مقیم رہا تھا۔

پھر کہنے لگے PIA سے اسیٹشن ڈائیرکٹر کے عہدے سے رئٹائیر ہوا ہوں۔ بیگم ڈاکٹر بیٹی بیرسٹر بیٹا امریکہ میں ڈاکٹر تھے لاھور سے مگر تعلیم کے بعد ساری عمر کراچی میں گزری گھر میں سب کو اسلام آباد بحریہ میں گھر بنانے کا بھوت سنوار تھا لہذا میری ڈیوٹی لگ گئی کیونکہ “ویلا بندہ گھر وچ چنگا جو نہیں لگدا۔۔ قہقہہ مار کر کہنے لگے ویسے بیی تو کہتے ہیں کہ گھوڑا اور کشمیری بوڑھا ہو جاۓ تو انہیں گولی مار دینی چاہیے کیونکہ دونوں ویلے ہو کر بھی اکھڑ پن اور کھانا پینا نہیں چھوڑتے۔۔۔

کہنے لگے پہلے پلاٹ بڑی مشکل منتوں سے حاصل کیا جب گھر بنانا شروع کیا تو تو مستری فراڈ، ریت والا جھوٹا ، سیمنٹ والا کم لاۓ مزدور کام چور، کہنے لگے اس کے باوجود جب کرسی رکھ پہرا دینے لگتا ہوں تو وہ کوئی ایسی چیز کی فرمائیش کر دیتے ہیں کہ بٹ صاحب یہ لے آئیں وہ لے آئیں کہتے ہیں وہاں سے ملے گا

بتاتے ہیں یار میں پنڈی میں نیا ہوں اجنبی ہوں گاڑی گھما کر پوچھتا ہوں کہاں سے ملے گا ۔۔وقت لگا کر چیز لے کر جاتا ہوں تو کہتے ہیں کام آپ کی وجہ سے رکا ہوا تھا۔ کہنے لگے پہلے بتاتے بھی نہیں !

کہتے “بٹ صاحب اے ویکھ لو میں تے پاگل ہویا جے ایتھے کلا! “۔ کہتے میرے دیکھنے سے ڈر گئے تھے کہ کوئی ان کی ریکی تو نہیں کر رہا تھا جیسےاغوا کا پروگرام بنا ہو شاید۔ اس لئے محتاط ہوا! بھلا اجنبی شہر میں کیا ہو جاۓ یہاں تو دیکھا لوگ آللہ سے بھی نہیں ڈرتے۔ کہنے لگے اگر مہینہ بھر میں ٹھیک نہ ہوا تو بیچ کر چلا جاؤں گا۔۔۔”پاگل تے نہیں ہونا ناں بٹ صاحب”۔ میں نے حوصلہ دیا اور شعر سنایا
اتنے بھی مخلص متبن جاؤ کہ بعد میں پچھتانا پڑے
سنا ہے لوگ اخلاص کو ٹھکرا دیا کرتے ہیں۔

میں نے ان کو حوصلہ دلا کر ان جیسا ہوشیار ہونے کا کہا اور ناشتہ کرا کر رخصت کیا۔ مجھ سے مل کر ان میں ہمت آ گئی تھی اور کہنے لگے “میں ہون مکو ٹھپ “ کر دیکھاتا ہوں۔ میں جی جی کہہ کر اس شریف آدمی کو دلیر کر دیا تھا۔

دفتر کھلنے لگے تھے اور شاید انہوں نے ویلے مزدوروں رزق حلال
پہ لگانا تھا!

الوداعی سلام کے طور پہ میں نے مصافحہ کرتے ہوۓ کہا:

ہر مرحلہ شوق سے لہرا کے گزر جا
اثار طلاطم ہے تو بل کھا کے گزر جا

محمد افراہیم بٹ۔ العین یو اے ای
مئی ۲۰۲۱

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *