اگر میں کچھ کہوں تو سمجھ آتا ہے کہ پاکستانی معاشرت کو خام رکھا گیا مختلف نظام ہاۓ تعلیم کے تحت یوں ہر کویٔی دوسرے کو گالی دیتا ہے۔
سڑک پہ کھڑے ہو کر دیکھ لیں۔جب میڈیاکی بات ہو تو نابالغ رپورٹر کیمرہ لیکر کھڑے ہوں یا بالوں میں انگلیاں مارتی سیاسی شو کرتی میزبان خوش شکل لڑکیاں یا ٹاک شو کے میزبان جو دن میں بیٹھ کر آپسی معاہدہ کرتے کہ آج کیا شو کرنا ہے۔
ان کے وہی گنے چنے مہمان جو کبھی اچار کی برنی میں ان دیکھےچمچ ماریں تو آم کی گھٹلی نکلنے پہ ہم پوچھتے ہیں کیا کویٔی کچھ اور نہیں بچا؟
جہاں صحافی مالکوں کی کمرشل لایٔن ٹوہ کریں وہ صحافی نہیں سکرپٹ پڑھنے والے نیوز ریڈرز ہیں۔
نقطہ نظر الگ ہونا اچھی بات ہے لیکن ریلوے سٹیشن پہ باسی پکوڑوں پہ ذیادہ چٹنی ڈال کر بیچنے والے خایٔن کیطرح صحافیوں کے میڈیا سنٹرجہاں جوانوں سے سنسنی خیز خبریں عام کی جاتی ہیں تاکہ یو ٹیوب سے آمدنی شروع ہو جاےْ۔
خاصاں دی گل نہیں مناسب عاماں اگے کرنی
مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی۔
معاشرے کی اصلاح سیاسی جماعتوں سے تو ہونی نہیں کیونکہ ان میں دنیاوی معاملات کی سمجھ بوجھ اور بلوغت ہی نہیں۔ اس پر اگر گراں نہ گزرے دین کا علم بھی پرانی درسی کتابوں تک محدود ہے۔ مسلمان کو جدید علوم میں دنیا کو منوانا ہو گا۔
جہاں دوسروں کے منہ میں جاتے لقمے گننے والے ذہن ہوں وہاں سورہ الناس تو پڑھی جاتی لیکن ترقی نہیں ہوتی۔ یہ اس قابل نہیں ہیں۔
ملک کی اصلاح ان سیاسی افراد سے بھی ہونے والی نہیں جن کے اپنے مفادات قومی مفادات پہ حاوی ہوں جنکی آنکھوں میں بھوک کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔
میں نے تو قصور کی بیٹی کو کانفرنس میں اور حالیہ اسمبلی میں اپوزیشن کو ساہیوال کے معاملے پہ ٹھٹھے لگاتے اور ہنستے دیکھا۔ یہ عوامی نما یٔندے نہیں ہماری ضرورتوں کے خریدار ہوتے ہیں۔
جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہر جایٔی
جہاں لوگ قران کی جھوٹی قسمیں کھایٔیں اور برقع پہنے عورتیں ابرو ریز ہوں وہاں دوش تو صاحب اقتدار کو ہی جاتا ہے۔
پاکستان کا مستقبل تابناک ہو گا انشااللہ یکساں تعلیم اور وسایٔل کے ذریعے۔ اگر بجلی کراچی یا کسی گوٹھ/کویٔٹہ یا پنجگور/پشاور یا مالاکنڈ /لاھور یا چوک اعظم میں
ایک جیسی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔
وگرنہ یہ طوطا چشم سیاستدان / مذہبی ٹولے جو وقت کی رفتار اور امورِ دنیا سے نابلد ہیں لوگوں کو مختلف بوریوں میں ڈال کر بیچتے رہیں گے۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے کبھی دبی لندن اور ملایشیا جا کر دیکھیں۔
عمران کے بارے میں دس سال پہلے کہا تھا کہ وہ ذمین کی کشش سے نکل چکا ایک درویش انسان بن گیاہے۔ اور جب اس کو قریب سے دیکھا تو یقین ہوا کہ پاکستان کا موجودہ نجات دہندہ یہی ہے۔ کیونکہ پاکستانی قوم میں بیماریاں اور برایٔیاں سارے انبیا و رسل والی قوموں والی سدھار مشکل ہے ناممکن نہیں انشااللہ لیکن اللہ ہر مشکل دور میں کسی کو کھڑا کرتا ہے جو سب کو قابلِ قبول ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے گا سب اس اواب الرحمن (اللہ کیطرف لوٹنے والے) کو تواب الرحیم (توبہ قبول کرنے والا) مدد بہم پہنچاۓ گا۔ انشااللہ
( محمد افراہیم بٹ۔ اکتوبر ۲۰۱۹۔ العین الامارات)
![]()

