قسط-۲
حضرتِ اقبال سے تعلق۔
توڑا نہیں جادو مری تکبیر نے تیرا؟
ہے تجھ میں مُکر جانے کی جرأت تو مُکرجا
لڑکپن میں رزق کی تلاش میں جب پردیس آیا تو اماں مرحومہ کا کتب بینی کا شوق سکول میں جناب منیر احمد خلیلی جیسے جید استاد ملے۔ پھر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے تعلق ہوا تو یہ سب لوگ حضرتِ اقبال کی باتیں بولنے والے تھے۔
کہنا چاہتا ہوں پردیس آتے ہوۓ جہیز میں دعاؤں کے ساتھ قران۔ لکھنے کو نوٹ بک اور پھر کلیاتِ اقبال ملی۔ قران پڑھتا تو اقبال کے اشعار ترجمہ لگتے۔
پردیس کی تنہا راتوں میں میں اقبال کو پڑھتا تو تاریخ کے حوالے اور ذندگی کے مصایٔب کا حل ملنے لگتا۔ پھر نکتے سوچ کی چکی میں پسنے لگتے تو کیٔی بار نیند سے بیدار ہوتا تو ہمیشہ کی طرح سرھانے موجود کلیات میں اشعار کے ساتھ حوالے لکھنے لگتا۔ آقبال کے اشعار تو سکول میں ہی یاد ہونے لگے حتی کہ صد سالہ تقریب منعقدہ پاکستان اسلامیہ سکول دبیٔی میں بھی سنایٔی جانے والی ٹیپ بھی میں نے ہی مہیا کی تھی۔
بڑے ہوۓ تو غیر ملکیوں کو کلامِ اقبال کا ترجمہ کرکے بتاتے۔ ایرانیوں سے دوستی کرتے ہی اقبال کو پڑھوانے اور لطف لینے کو۔ آج میرےپاس حضرت کے چند نسخے ہیں لیکن جیسےعورتیں جہیز والی اشیأ سنبھالتی ہیں اور محبت کرتی ہے میرا بھی اس نسخے سے ویسا ہی پیار ہے ٤٢ سال کی رفاقت۔ ورق ورق پہ لکھے حوالے مگر اب مجھے اپنی طرح
کلیات بھی بوڑھی لگنے لگی ہے کیونکہ کچھ ورق اکھڑ سے گیٔے ہیں اپنی طبیعت کی طرح۔
مگر صاحب اس کے اندر کی شاعری تو ماشأاللہ حالاتِ حاضرہ سے ایسا ربط بناتی ہے کہ میں عربوں کے حوالے سے ۔۔
“فکرِ عرب کو دے کر فرنگی تخیلات۔۔۔” اور بہت سارا دوسرا کلام پڑھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آج یا کل لکھا گیا ہو۔
میرے ساتھ کلیات تو بوڑھی ہو سکتی لیکن اقبال کا کلام اسی طرح تازہ و توانا ہے ۔ شاید اس کی وجہ اس کا منبع ہے قران و سنت کی ترجمانی ہے گویا ہر دور کی راہنمایٔی کا ذریعہ ہے کلامِ اقبال۔
کتنے کھٹن حالات سے گزران ہوا مگر مجال ہے اقبال نے کبھی مایوس ہونے دیا ہو۔ ہاتھ میں یقینِ محکم عملِ پیہم محبت فاتح عالم کی شمشیریں تھما دیں۔ پھر جس دن سے خودی کی تمثیل سمجھ آ گیٔی دنیا کا سیاپا ہی مک گیا۔ جب بھی پاکستان جاتا جہلم سے فاتحہ کے لیٔے لاھور آتا اور پھر واپس چلا جاتا۔ اقبال کو آج بھی اسی طرح پڑھ کر رگوں میں خون کو متحرک کرتا ہوں۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری سے شروع ہونے والی کلامِ اقبال کی روشنی آج یدِ بیضأ کی مانند مددگار اور ذریعۂ خیر و اطمینان ہے۔
اللہ ان پہ خاص رحمت کرے۔ امین
محمد افرہیم بٹ
العین ۔ اپریل ۲۰۱۸
![]()

