عجب عورتیں عجب کہانیاں
کراچی کے شخص نے کسی دوست کے تواسط سے صلح و مشورہ کے لئےملاقات چاہی۔ فون پہ پوچھا کیا معاملہ ہے رونے لگا دو بچے ہیں ایک بارہ سال اور ایک نو سال کا۔
کراچی سے ہی شادی کی گھر والوں کی مرضی سے تعلیم کا زرا سا فرق تھا وہ بی اے تھی جبکہ اس نے ایف اے کیا ہوا تھا۔ اس نے ابوظہبی میں کنسٹرشن کمپنی بنائی ہوئی تھی جس میں تقریبا چالیس ملازم تھے۔
کہتا ہے بیوی کو بہت لاڈ پیار دیا ۔ اس کی نیک نیتی سے مدد کی حتی کہ اپنے گھر سے کٹ گیا۔ سسرال والوں کو پالا بیوی نے جو کہا میں زیور لینا ہے کہتا ہے میں نے لے کر دیا۔ بیوی نی پائلٹ بننے کی تربیت کی فرمائش کی تو وہ بھی ایک لاکھ درھم لگا کر پوری کی۔ بیوی کے نام لاکھوں کے زیوار کے علاوہ ایک ملین درھم کا فکس ڈیپازٹ بھی کیا ہوا تھا اس نے میکے سے بندے بلا کر سیٹ کرانے کو کہا تو وہ ہر طرح کی مدد کرتا۔
گاڑی لیکر دی تو اس کی باہر لوگوں سے میل ملاپ بڑھا پھر اس نے سگریٹ پینا شروع کر دیا اور طنز شروع کر دیا کہ تم گنوار ہو اور کم تعلیم یافتہ ہو ۔ پھر اس کی غیر اخلاقی حرکات کا شک ہوا لیکن ایک دن پولیس دروازے پہ آن کھڑی ہوئی فون کرکے ارمان کو بلایا کہ ق—-ایسی حالت میں ملی اور اسے ملک بدرکرناہے کہتا ہے ۔
اس کے جوں جوں باہر کے لوگ سے تعلق بڑا اسُ کا گھر اجڑنا شروع ہو گیا۔ سسرال والے اس کے پاؤں پڑے کہ پولیس کو درخواست دو کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے۔ کہتا ہے میں نے عجیب شرمندہ سا رہنے لگا بچوں کی وجہ سے بھی دھیان بٹ گیا یوں کاروبار برباد ہونے لگا۔
اب اس لڑکی نے ضد کرکے ایک کمپنی میں نوکری کا کہا کہنے لگا سوچا مصروف ہوگی تو راہ راست پہ آ جاۓ گی۔ اس کمپنی میں نوکری کے بعد اس سے لاتعلق رہنے لگی کہ اچانک اس کے دفتر سے اس کی ایک ساتھی لڑکی کا فون آیا کہ تمھاری بیوی نے اس کے میاں سے تعلق بنا لیا ہے اور اس نے چوری چوری میاں کے موبائیل سے کچھ ناقابل اعتراض تصویریں بھی نکال کر بھیجیں جو وقت انہوں نے ہوٹل میں گزرا تھا۔
بقول ارمان کے اس نے اسے بہت چاہا تھا یوں اس دن خوب رویا جب شام میں اس سے تفتیش کی تو اس نے صاف کہہ دیا شادی تو مرضی اور پسند کے خلاف ہوئی تھی۔ کہتا ہے وہ حیران ہوا اسے کہا ایسا تو نہیں سوچا تھا کہُ پیارکا ایسا صلہ ملتا۔
کہنے لگا اگلے دن سسرالیوں نے آکر گالیاں دیں اور عدالت لگا لی کہ اسے طلاق دو وہ تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ ارمان کہتا ہے بہت سمجھایا کہ بچے برباد ہو جائیں گے تو اس عورت نے اگلے دن کورٹ میں خلح کا مقدمہ درج کرا دیا اور مشھور کر دیا کہ ارمان نے اس کےگھر والوں کے سامنے اور فون پہ طلاق دی ہے۔ لہذا وہ بیوی اور بچوں کا خرچہ مہیا کرے۔
اسلامی جج کے پاس مقدمہ ابوظہبی کی عدالت میں پہنچا تو اس نے اس عورت کو شرمندہ کیا کہ کوئی طلاق نہیں ہوئی مگر ارمان سے کہا کہ کفالت کرتا رہے۔
اب اس عورت نے اسی گھر میں رہتے ہوۓ اسے تنگ کرنا شروع کردیا اس کے بنک اکاونٹ پر پابندی لگوا دی کیونکہ اب وہ عیاش لوگوں میں مشھور ہونے لگی تھی۔ اس کے سفر پر پابندی ۔۔۔
یوں کاروبار بند اور ارمان اپنے کمرے میں مقید ہو کر رہ گیا جب کہ وہ مختلف یاروں کے ساتھ سیروتفریح پہ بیرونی ملک بھی جانے لگی اور بچوں کو باپ کے خلاف ورغلاتی رہتی۔ کہ تعلیم نہیں ۔ اسے یہ نہیں آتا۔ سٹیٹس نام کو نہیں۔ لوگوں میں کیسے تعارف کراۓ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
میں نے ارمان کی عدالت تک مدد کی لیکن اس بات کا حاصل یہ ہے:
۱۔ آج کے مرد اپنی عورتوں کے سامنے بے حجاب ہو گئے ہیں۔
۲۔ خاندان میں ہر رشتے کا ایک مقام ہے اور ضروری بھی مگر جہاں جس کی طرف حد سے کم یا زیادہ وہیں سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔
۳۔ عورت یا بیوی کو جب حور پری اور حد سے زیادہ حیثیت دو گے تو وہ سر چڑھ کر بولے گی۔ یہ وہی عورت ہوگی کہ اگر طلاق دی تو مرد کے پاس سے انجان بن کر گزر جاۓ گی۔
۴۔ حضور صلعم نے زیادہ شادیاں کرکے مثال دی ہے اور عورتوں کو کھلا چھوڑنے والے کو دیوث کہہ کر بتایا معنی خود دیکھ لیں شرم آ جاۓ گی۔
۵۔ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں بقول قران لیکن اگر ایک حصہ کور نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں مرد کی رسوائی کا باعث ہو تو؟
۶۔ نوکری کرنا اور باہر کے مردوں اور عورتوں کو ملنا بھی گھر کی تباھی کا باعث ہوتا ہے۔ عورت اپنے پیسے ضرور کماۓ مگر اپنے میاں۔ باپ بھائی کے حصار میں رہتے ہوۓ وگرنہ دنیا کے بارے میں بات کیا کرنی۔
۷۔ شادی کے سالوں بعد بچے پیدا ہونے کے بعد اچانک پسند نا پسند ! غلط شادی کا دعوہ! سٹیٹس کا خیال اور پھر اپنے پرانے معاشقے اور تعلق یاد آنا بھی عجیب ہے۔
۸۔ عورتوں کی چھ قسمیں ہوتی ہیں لہذا عورت کی نانی۔ ماں ۔ بہنیں کے کرداروں اور باپ بھائی کے رویے کو دیکھ شادی کریں۔
۹۔ جس عورت کی آنکھ کا حیا ختم ہوجاۓ اور وہ آذاد ہونے لگے تو سمجھ جاؤ اسے آذاد کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ورنہ گیلی لڑکی کی طرح دھواں تو دے کر منہ کالا کرو گے مگر آگ نہ جلے گی ناں فائدہ ہو گا۔
۱۰۔ مکر کرنے والی عورت بچوں سے بلیک میل کرتی ہے حالانکہ بچے قانون مرد کی ملکیت ہی ہوتے ہیں۔
۱۱۔ جو لوگ بیویوں اور سسرالیوں کے لئے اپنوں کو چھوڑ دیتے ہیں وہ سسرال کی گلیوں کی نالیوں اور کوڑے کے ڈھیروں پہ مرتے ہیں۔
۱۲۔ عورت کی خوبصورتی اور عزت گھر کے اندر اور با حیا ہونا ہے جبھی تو اسے مستورہ، محصنہ۔ متحجبہ وغیرہ کے عزت والے مقام عطا کئے گئے ہیں ۔
۱۳۔ مرد معاشرے میں اپنے کردار اور زبان سے پہچانا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے حسب نسب اور عورت یا دہلیز ۔ نام و زبان ۔ دولت اور سواری سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
لیکن اس سب میں عورت، دولت اور سواری اگر اچھی نہ ہوں تو بدل لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔
مرد اپنے کردار اور رہتل (رہن سہن) سے ہی عزت پاتا ہے ورنہ لوگ ہنستے ہیں۔ ویسے بھی اماں حوا بابا آدم علیہ السلام کی دل جوئی کے لئے پیدا ہوئیں تھیں۔
انہیں عورتوں کی وجہ سے رشتے بٹنے اور ٹوٹنے لگے ہیں خاندانوں میں دوریاں اور عدم اعتماد آ گیا ہے مگر کشتی کی ملاحی مرد کے پاس ہے ورنہ پچھتاوے کا بھنور
دور نہیں ہوتا۔
مرد کو فیصلوں پہ ڈٹنا ہوتا ہے ورنہ تو وہ لوٹا بنتا رہے گا۔۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ عدالت کو لکھے گئے پیپرز بھیج رہا ہوں تاکہ آنکھیں کھلیں اور کوئی اسے اپنی ذاتی کہانی نہ سمجھے بلکہ عبرت حاصل کرے۔ اللہ سب کو جوڑے امین ۔ ورنہ کینسر کا علاج غدود کا نکلاناہی ہوتا ہے اور “میں” کو چھری!
کسی کو برا لگے تو معافی کاطلب گار سوچنے کی تلقین کے ساتھ۔
سب دی خیر سب دا بھلا
-محمد افراہیم بٹ ۔ نومبر 2020
العین، الامارات
![]()

